
آر بی آئی کی نئی لوک پال اسکیم 2026 نافذ، بینک کے خلاف شکایت پر صارفین کو ملیں گے نئے حقوق اور 30 لاکھ روپے تک معاوضہ
آر بی آئی کی نئی لوک پال اسکیم 2026 نافذ، بینکوں کے خلاف شکایت کرنا ہوا آسان، صارفین کو ملیں گے مزید حقوق
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے بینکنگ صارفین کے حقوق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریزرو بینک انٹیگریٹڈ اومبڈسمین اسکیم (RB-IOS 2026) نافذ کر دی ہے۔ نئی اسکیم کے تحت بینکوں، این بی ایف سی، ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارمز اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں کے خلاف شکایت درج کرانا پہلے سے زیادہ آسان اور مؤثر ہوگا۔
آر بی آئی کے مطابق، گزشتہ چند برسوں میں بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2022-23 میں جہاں 8.81 لاکھ شکایات موصول ہوئیں، وہیں 2024-25 میں یہ تعداد بڑھ کر 13.4 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اسی تناظر میں نئی لوک پال اسکیم متعارف کرائی گئی ہے تاکہ صارفین کو بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کیا جا سکے۔
کن صارفین کو فائدہ ہوگا؟
نئی اسکیم کے مطابق ہر وہ شخص صارف تصور ہوگا جو کسی بینک، این بی ایف سی یا ڈیجیٹل ادائیگی سروس سے متعلق کسی خدمت کا استعمال کرتا ہے یا اس کے لیے درخواست دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی قرض کی درخواست بلاوجہ مسترد کر دی جائے تو وہ بھی شکایت درج کرا سکتا ہے۔
شکایت کا دائرہ مزید وسیع
آر بی آئی نے "خدمت میں کمی” کی تعریف کو بھی وسیع کر دیا ہے۔ اب صرف بینکنگ خدمات ہی نہیں بلکہ ٹیکس سرٹیفکیٹس، کریڈٹ رپورٹ میں غلط اندراج، قرض سے متعلق ریکارڈ اور دیگر مالیاتی دستاویزات میں غلطیوں پر بھی شکایت درج کرائی جا سکے گی۔
ایک ہی کیس میں کئی ادارے جواب دہ ہوں گے
اگر کسی بینک کے ذریعے انشورنس یا دیگر مالیاتی مصنوعات کی غلط فروخت کی گئی ہو تو اب لوک پال متعلقہ بینک اور انشورنس کمپنی دونوں کو ایک ہی شکایت میں فریق بنا سکتا ہے۔ اس سے صارفین کو الگ الگ شکایات درج کرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
معاوضے کی حد میں اضافہ
نئی اسکیم کے تحت بالواسطہ مالی نقصان کے معاوضے کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ذہنی اذیت، پریشانی اور وقت کے ضیاع پر دیا جانے والا معاوضہ بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
اپیل کا وقت اب صرف 90 دن
اگر بینک 30 دن کے اندر شکایت کا مناسب جواب نہیں دیتا یا صارف جواب سے مطمئن نہیں ہوتا تو اب اسے صرف 90 دن کے اندر لوک پال سے رجوع کرنا ہوگا۔ اس لیے صارفین کو اپنے بینک اسٹیٹمنٹس، قرض کے ریکارڈ اور کریڈٹ رپورٹ کا باقاعدہ جائزہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
آن لائن شکایت کا نیا نظام
آن لائن شکایت درج ہونے کے بعد نظام خودکار طریقے سے جانچ کرے گا کہ شکایت لوک پال کے دائرہ اختیار میں آتی ہے یا نہیں۔ غیر متعلقہ شکایات فوری مسترد کر دی جائیں گی جبکہ درست شکایات پر جلد کارروائی شروع ہوگی۔
پہلے مفاہمت، پھر فیصلہ
نئی اسکیم میں "پہلے مفاہمت” کے اصول کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے تحت لوک پال پہلے بینک اور صارف کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر باقاعدہ فیصلہ بھی جاری کیا جائے گا۔
شکایت درج کراتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں
- سب سے پہلے متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارے کو تحریری شکایت دیں۔
- ادارے کو جواب دینے کے لیے 30 دن کا وقت دیں۔
- ای میل، شکایت نمبر، لین دین کی تفصیلات اور دیگر تمام ثبوت محفوظ رکھیں۔
- اگر جواب تسلی بخش نہ ہو تو 90 دن کے اندر لوک پال سے رجوع کریں۔
- ہر ماہ بینک اکاؤنٹ اور سال میں کم از کم ایک مرتبہ کریڈٹ رپورٹ ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی غلط اندراج کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔



