
SIR سے راشن کارڈ منسوخی معاملہ: سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو ہائی کورٹ جانے کی ہدایت
راشن کارڈ منسوخی کا معاملہ ہائی کورٹ میں اٹھانے کی ہدایت
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کے بعد راشن کارڈ منسوخ کیے جانے کے معاملے میں دائر درخواست پر براہِ راست سماعت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ درخواست گزار محب اللہ منڈل پہلے ہی ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف متعلقہ ٹریبونل میں اپیل دائر کر چکے ہیں۔ اگر اس اپیل میں انہیں کامیابی ملتی ہے اور ان کا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل ہو جاتا ہے تو دیگر سرکاری فلاحی سہولیات بھی خود بخود بحال ہو جائیں گی۔
عدالت نے ٹریبونل کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کی اپیل دو ماہ کے اندر نمٹائے۔
راشن کارڈ منسوخی کا معاملہ ہائی کورٹ میں اٹھانے کی ہدایت
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل شادان فراست نے مؤقف اختیار کیا کہ SIR کے دوران جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں، ان کے راشن کارڈ بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ SIR صرف انتخابی فہرست کی نظرثانی تک محدود ہے اور شہریت کا حتمی فیصلہ صرف مرکزی حکومت ہی کر سکتی ہے۔
اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر واقعی ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کو راشن کارڈ منسوخی سے جوڑا جا رہا ہے تو اس معاملے کو متعلقہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔
نادیہ ضلع کے رہائشی محب اللہ منڈل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جنوری 2016 میں نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ (NFSA) کے تحت ترجیحی گھرانے (Priority Household) زمرے میں ڈیجیٹل راشن کارڈ جاری کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ منسوخ ہونے کے باعث انہیں سرکاری راشن کی فراہمی بند کر دی گئی ہے، جس سے ان کے حقِ خوراک اور حقِ زندگی پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے میں براہِ راست مداخلت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔



