
آسام میں سی جے پی طلبہ تحریک کی حمایت میں احتجاج کی کوشش، تین مسلم نوجوان گرفتار
"اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ نوجوان صرف پرامن احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جبکہ پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔"
لکھیم پور (آسام)، 26 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): آسام پولیس نے ضلع لکھیم پور میں سی جے پی کی قیادت میں جاری طلبہ تحریک کے حق میں مبینہ طور پر احتجاج منظم کرنے کی کوشش کے الزام میں تین مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ہونے والوں کی شناخت منظور رحمان (23)، اشرف الاسلام (21) اور عبدالقاسم (23) کے طور پر ہوئی ہے، جن کا تعلق اسلم پور گاؤں سے ہے، جو لالوک پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نوجوانوں نے طلبہ تحریک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پرامن احتجاج کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس مقصد کے لیے واٹس ایپ گروپ بھی بنایا تھا۔ پولیس نے انہیں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 61(2)(b) (مجرمانہ سازش)، 353(1) (عوام میں بدامنی یا شر پھیلانے سے متعلق جرم) اور 152 (ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات) کے تحت گرفتار کیا۔
گرفتار نوجوانوں کے اہل خانہ نے پولیس کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔ منظور رحمان کے والد مظیبور رحمان کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا صرف ایک احتجاج منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ کوئی مظاہرہ ابھی تک منعقد بھی نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ منظور رحمان ایم کام کے طالب علم ہیں اور گرفتاری سے ایک روز قبل پولیس نے انہیں طلب کیا تھا۔
اشرف الاسلام کے والد ایوب علی نے بھی اپنے بیٹے کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ذہین اور فرمانبردار طالب علم ہے اور اس پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق اشرف کو رات تقریباً نصف شب کے وقت پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم پولیس نے اس تاثر کی تردید نہیں کی بلکہ صرف مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔
لالوک پولیس اسٹیشن کے انچارج سمنتا پتھک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مقدمہ درج کیا جا چکا ہے، تاہم مزید تفصیلات اعلیٰ حکام کی اجازت کے بعد ہی فراہم کی جائیں گی۔



