
گوالیار : بستر میں چھپے کریٹ سانپ نے پولیس اہلکار کو کاٹا، اے آئی سے لی مدد
گوالیار میں پولیس اہلکار کو کریٹ سانپ نے کاٹ لیا
گوالیار، 17 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ایک پولیس اہلکار کو اس وقت خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب بستر میں چھپے زہریلے کریٹ سانپ نے اسے ہاتھ پر دو مرتبہ کاٹ لیا۔ واقعے کے بعد پولیس افسران نے فوری طور پر زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے روانہ کیا، جبکہ اسپتال پہنچنے تک ابتدائی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹول جمنی سے بھی مدد لی گئی۔
یہ واقعہ بیجولی پولیس اسٹیشن کے احاطے میں واقع سرکاری کوارٹر میں پیش آیا، جہاں ہیڈ کانسٹیبل پورن سیکروار رات کے وقت اپنے بستر پر سو رہے تھے۔ اچانک بستر میں موجود سانپ نے ان کے ہاتھ پر حملہ کیا۔ کاٹنے کا احساس ہوتے ہی پورن سیکروار نے مدد کے لیے شور مچایا، جس پر تھانہ انچارج سوربھ سریواستو سمیت دیگر پولیس اہلکار فوری طور پر ان کے کمرے میں پہنچ گئے۔
پولیس اہلکاروں نے موقع پر سانپ کو بھی دیکھا اور محفوظ فاصلے سے اس کی تصویر حاصل کرلی۔ چونکہ اس وقت ہسپتال جانے میں کچھ وقت لگ سکتا تھا، اس لیے تھانہ انچارج نے اے آئی جمنی سے سانپ کے کاٹنے کی صورت میں فوری اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اے آئی کی جانب سے زخمی اہلکار کو پرسکون رکھنے اور غیر ضروری حرکت سے بچانے کی ہدایت دی گئی، تاکہ طبی امداد ملنے تک صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
بعد ازاں پورن سیکروار کو گوالیار کے جیاروگیا اسپتال، جے اے ایچ منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کو سانپ کی تصویر بھی دکھائی گئی۔ تصویر دیکھنے کے بعد عام کریٹ کے کاٹنے کا شبہ ظاہر کیا گیا اور اسی کے مطابق طبی علاج شروع کیا گیا۔ ابتدائی علاج کے بعد اہلکار کو مزید نگرانی اور علاج کے لیے ایک نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس ایس پی دھرم ویر سنگھ یادو بھی اسپتال پہنچے اور ہیڈ کانسٹیبل کی صحت کے بارے میں ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کیں۔ اہلکار کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جا رہی ہے اور علاج کے بعد ان کی صحت میں بہتری آنے کی اطلاع ہے۔
پولیس کے مطابق بارش کے موسم میں سانپوں کے رہائشی علاقوں اور سرکاری کوارٹرز میں داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ شہریوں اور اہلکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بستر، کپڑے، جوتے اور دیگر سامان استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح جانچ لیں، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں سانپوں کی موجودگی کا خدشہ ہو۔
اس واقعے میں اے آئی سے حاصل کی گئی معلومات نے پولیس اہلکاروں کو فوری ابتدائی اقدامات سمجھنے میں مدد دی، تاہم سانپ کے کاٹنے کی صورت میں مصنوعی ذہانت کی رہنمائی کو طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسے حالات میں متاثرہ شخص کو پرسکون رکھنا، غیر ضروری حرکت سے بچانا اور اسے جلد از جلد اسپتال پہنچانا انتہائی ضروری ہے۔



