
آگرہ میں 16 سالہ طالب علم اور 38 سالہ ٹیچر لاپتہ، موبائل ریکارڈ سے ملا سراغ
موبائل کال ریکارڈ اور آگرہ کینٹ ریلوے اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے پولیس کو اہم سراغ ملا
آگرہ، 21 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)آگرہ میں 16 سالہ طالب علم اور 38 سالہ ٹیچر کی بیک وقت گمشدگی کے معاملے نے پولیس کو تحقیقات پر مجبور کردیا۔ طالب علم 4 اگست کو اسکول کے ایک پروجیکٹ کے لیے اپنی والدہ سے رقم لے کر گھر سے نکلا تھا، لیکن واپس نہیں آیا۔ اہل خانہ نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ جس ٹیچر سے وہ ٹیوشن پڑھتا تھا، وہ بھی اپنے گھر سے غائب ہے۔ اس کے بعد پولیس نے دونوں کی گمشدگی کو جوڑ کر تفتیش شروع کردی۔
یہ معاملہ آگرہ کے تاج گنج تھانہ علاقے کا ہے۔ 16 سالہ طالب علم شہر کے ایک اسکول میں 11ویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 4 اگست کو اسکول کے پروجیکٹ کے لیے تقریباً 3 ہزار روپے لے کر گھر سے نکلا تھا۔ اس نے اپنی سائیکل ایک دوست کے گھر کھڑی کی اور اس کے بعد واپس نہیں آیا۔ کافی دیر تک گھر نہ پہنچنے پر اہل خانہ نے رشتہ داروں اور دوستوں سے معلومات حاصل کیں، لیکن طالب علم کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
طالب علم کی تلاش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ 38 سالہ ٹیچر بھی اپنے گھر سے غائب ہے۔ ٹیچر شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے ہیں۔ طالب علم کے اہل خانہ نے تاج گنج تھانے میں شکایت درج کرائی، جبکہ ٹیچر کے شوہر نے بھی اس کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی۔
تفتیش کے دوران پولیس نے دونوں کے موبائل فون کی کال تفصیلات کی جانچ کی۔ ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ طالب علم اور ٹیچر کے درمیان مسلسل فون پر بات چیت ہوتی رہی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی۔ آگرہ کینٹ ریلوے اسٹیشن کی فوٹیج میں دونوں کو اسٹیشن کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد پولیس نے ریلوے روٹ اور دیگر ممکنہ مقامات پر تلاش تیز کردی۔
پولیس کے مطابق طالب علم پہلے گوالیار گیا اور اس کے بعد راجستھان کے مختلف مقامات پر بھی گیا۔ طالب علم نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ وہ ٹیچر کے ساتھ ان مقامات پر گھوما تھا۔ پولیس نے موبائل لوکیشن اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے تلاش جاری رکھی اور بالآخر طالب علم کو نوئیڈا جبکہ ٹیچر کو متھرا سے بحفاظت بازیاب کرلیا۔
پوچھ گچھ کے دوران ٹیچر نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے طالب علم کی طرف متوجہ تھی۔ اس کے مطابق طالب علم گھر میں پڑھائی کے معاملے پر ملنے والی ڈانٹ سے پریشان تھا اور اس سے اپنی مشکلات کا ذکر کرتا تھا۔ ٹیچر نے بتایا کہ 4 اگست کو طالب علم نے فون کرکے خودکشی کرنے کی بات کہی، جس پر وہ گھبرا گئی اور اسے ایسا قدم اٹھانے سے روکنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئی۔ بعد میں اسے اپنے فیصلے پر افسوس ہوا، تاہم گھر واپس آنے میں اسے ہچکچاہٹ محسوس ہورہی تھی۔
تاج گنج تھانے کے انچارج انسپکٹر نیرج کمار شرما نے دونوں کی بحفاظت بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ان کے بیانات درج کرنے کے بعد انہیں اہل خانہ کے حوالے کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق اہل خانہ نے فی الحال مزید قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



