
میانمار میں روہنگیا پر آراکان آرمی کے مظالم جاری، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سنگین انکشافات
روہنگیا مسلمانوں کو گرفتاری، تشدد، جبری مشقت، جنسی تشدد اور بے دخلی جیسے سنگین حالات کا سامنا
جنیوا، 25 اگست (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہو گئی ہے، جبکہ رخائن ریاست میں آراکان آرمی کے زیرِ اثر علاقوں میں روہنگیا مسلمانوں کو گرفتاری، تشدد، جبری مشقت، جنسی تشدد اور بے دخلی جیسے سنگین حالات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جون 2025 سے مئی 2026 کے دوران میانمار میں جاری تنازع نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج اور آراکان آرمی، دونوں پر روہنگیا آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان میں قتل، تشدد، جبری بھرتی، جبری مشقت، من مانی حراست اور لوگوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی رخائن میں آراکان آرمی کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں روہنگیا افراد کو من مانی طور پر گرفتار کیے جانے، تشدد کا نشانہ بنانے اور جبری مشقت پر مجبور کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی بتایا کہ روہنگیا خاندانوں کی زمینوں پر قبضے اور بے گھر افراد کی واپسی میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایات موجود ہیں۔ بعض علاقوں میں غیر روہنگیا افراد کو ان زمینوں پر آباد کیے جانے کی اطلاعات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی میکانزم برائے میانمار نے بھی اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رخائن ریاست میں تنازع شدت اختیار کرچکا ہے اور روہنگیا سمیت مختلف برادریوں کے خلاف من مانی حراست، تشدد، جبری بے دخلی اور انسانی امداد تک رسائی محدود کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ان تحقیقات میں آراکان آرمی کے ارکان سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔
روہنگیا آبادی کو جبری بھرتی کا بھی سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق آراکان آرمی کے زیرِ اثر علاقوں میں روہنگیا نوجوانوں کو مبینہ طور پر فوجی بھرتی کے لیے مجبور کیا گیا۔ بعض اطلاعات میں بتایا گیا کہ کم عمر لڑکوں کو بھی جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور انکار کرنے والوں کو گرفتاری، تشدد یا دیگر کارروائیوں کا خطرہ رہا۔
اقوام متحدہ کے مطابق میانمار میں مجموعی انسانی بحران بھی سنگین شکل اختیار کرچکا ہے۔ ملک میں اندرونی طور پر بے گھر افراد کی تعداد تقریباً 36 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 1 کروڑ 24 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں اور فوجی کارروائیوں کے باعث بڑھتی ہوئی انسانی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
روہنگیا بحران 2017 کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا تھا، جب لاکھوں روہنگیا میانمار سے فرار ہوکر بنگلہ دیش پہنچے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب بھی تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار روہنگیا رخائن ریاست میں موجود ہیں، جبکہ 11 لاکھ سے زیادہ روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال کے باعث روہنگیا پناہ گزینوں کی محفوظ واپسی کا معاملہ بھی پیچیدہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رخائن میں جاری لڑائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بنیادی تحفظ کے فقدان کے باعث بڑی تعداد میں روہنگیا اپنے گھروں کو واپس جانے کے بجائے اب بھی محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔



