بین ریاستی خبریں

سپریم کورٹ کا سنجے راوت کو 17 نومبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم

عدالت نے سنجے راوت کو اگلی سماعت پر ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی۔

نئی دہلی، 28 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت کو چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف مبینہ تبصروں سے متعلق توہین عدالت کے معاملے میں 17 نومبر کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اسی معاملے میں شامل سینئر صحافی نکھل واگلے کو آئندہ سماعت پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے بدھ کو سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔ عدالت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر واگلے کو اس کے بعد ہونے والی سماعت میں ذاتی طور پر بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کی جانب سے سنجے راوت اور نکھل واگلے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست سے متعلق ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں نے چیف جسٹس سوریا کانت کے بارے میں ایسے تبصرے کیے جن پر عدالتی کارروائی کی ضرورت محسوس کی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سنجے راوت نے اپنا جواب حلف نامے کی صورت میں داخل کیا ہے، تاہم اس کی نقل عدالتی ریکارڈ پر دستیاب نہیں تھی۔ اس پر بنچ نے رجسٹری کو حلف نامہ ریکارڈ پر رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے راوت کی آئندہ سماعت میں ذاتی حاضری لازمی قرار دی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل پردیپ رائے نے عدالت کو بتایا کہ راوت نے مبینہ طور پر مزید تبصرے بھی کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نکھل واگلے نے متعلقہ سوشل میڈیا پوسٹ نوٹس موصول ہونے کے بعد حذف کی۔ وکیل نے راوت کی بعد کی سوشل میڈیا پوسٹس کا بھی حوالہ دیا، جن میں البانیہ کی سپریم کورٹ کو نذر آتش کیے جانے اور ہندوستان میں اس طرح کے واقعے کے امکان سے متعلق باتوں کا ذکر تھا۔

دوسری جانب نکھل واگلے کی طرف سے پیش ہونے والی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے عدالت کی توجہ ان کے تفصیلی حلف نامے کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ واگلے نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹ پر غیر مشروط معذرت پیش کی ہے، اپنے اظہار پر افسوس ظاہر کیا ہے اور شوکاز نوٹس سے بری کیے جانے کی درخواست کی ہے۔

عدالت نے واگلے کی جانب سے پوسٹ حذف کیے جانے اور افسوس کے اظہار کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اگلی سماعت میں ورچوئل طور پر حاضر ہونے کی اجازت دی۔ بنچ نے واضح کیا کہ بعد میں ان کی ذاتی حاضری کے بارے میں ضرورت کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل 16 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے سنجے راوت اور نکھل واگلے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ان کے خلاف فوجداری توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ اس وقت عدالت نے دونوں کو ذاتی طور پر حاضر ہونے سے استثنیٰ دیا تھا۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب سنجے راوت نے 12 اکتوبر کو میڈیا سے گفتگو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے لندن میں 60 سے 70 ججوں کو، جن میں چیف جسٹس بھی شامل تھے، بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلتے دیکھا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد معاملہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تک پہنچا، جس نے عدلیہ کے وقار سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔

یہ معاملہ اس پس منظر میں بھی سامنے آیا جب چیف جسٹس نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سے ملاقات کرکے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق یادداشت وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔ چیف جسٹس کے مطابق زیر التوا مقدمات پر اس نوعیت کی ملاقات آئینی طور پر اختیارات کی علیحدگی کے اصول سے متصادم ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اسے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر افسوس ہے، تاہم اس طرح کے بیانات کو نظر انداز کرنے سے عدلیہ کے خلاف مزید غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔

عدالت نے معاملے کی آئندہ سماعت 17 نومبر کو دوپہر 2 بجے مقرر کی ہے، جس میں سنجے راوت کو ذاتی طور پر حاضر ہونا ہوگا، جبکہ نکھل واگلے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button