بین ریاستی خبریں

یوپی – بہار کے بعد ، مدھیہ پردیش میں بھی ندی میں ملیں تیرتی ہوئی لاشیں ، سراسیمگی

بھوپال:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بہار کے بکسر اور یوپی کے غازی پور ضلع میں دریائے گنگا میں تیرتی ہوئی لاشوں کی خبر کے بعد اب مدھیہ پردیش میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے ، جس سے حکومت کی نااہلی اور اپنوں کے غیر ا نسانی سلوک کا پردہ فاش ہوتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے ضلع پنا میں متعدد لاشیں ندی میں بہتی ہوئی ملیں، جس سے علاقہ میں سراسیمگی پھیل گئی ۔پنا ضلع میںدریائے کین کی معاون ندی رونجھ کے کنارے واقع گاؤں نندن پور کے لوگوں نے کین کے ندی میں کئی لاشوں کو بہتے ہوئے دیکھا۔

اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ بہتی ہوئی لاشوں کی خبر سے دیہاتیوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دریا میں بہتی لاشیں کورونا متاثرین کی ہوسکتی ہیں۔ دیہی باشندگان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 4 دن سے 5-6 لاشیں ندی میں بہتی ہوئی دیکھی گئی ہیں۔ دیہی باشندہ راجیش یادو نے کہا کہلاشیں ندی میں بہتے ہوئے آسانی سے دیکھی جاسکتی ہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ لاشیں کورونا متأثرین کی ہیں یا کسی اور کی، لیکن ہم نے پہلی بار ندی میں لاشیں بہتے دیکھا ہے،

ہم بچوں کو باہر نہیں جانے دے رہے ہیں، کیونکہ کرونا کے پھیلاؤ سے ڈر رہے ہیں، تاہم ڈی ایم سنجے کمار مشرا ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف دو لاشیں ندی میں بہتی ہوئی پائی گئیں ہیں اور جن کی لاشیں بہتی ہوئی ملی ہیں ،وہ پڑوسی گاؤں کے لوگوں کی تھیں،جو کینسر کے باعث فوت کرگئے تھے۔ دیہی باشندوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ندی کو صاف کرنا چاہئے کیونکہ پینے کے پانی کا واحد ذریعہ کین ندی ہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button