بین ریاستی خبریں

مسلم دوست سے شادی کرنے جارہی لڑکی نے 3 لوگوں پر لگایاتشدد کا الزام

ممبئی، 15جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی کے کھار کے رہنے والی ایک ہندو لڑکی نے اپنے #مسلم #دوست سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس کی #شادی کا کارڈ(دعوت نامہ) حالیہ دنوں کسی نے #واٹس ایپ پر لیک کردیا تھا۔ کارڈ پر دونوں کا نام بھی لکھا ہوا تھا۔ جس پر بہت سے لوگوں نے اس بین المذاہب شادی پر اعتراض کیا تھا۔ جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے #شادی منسوخ کردی۔

متشدد انتہاپسندوں کی طر ف اس شادی کونام نہاد لو َجہاد کا نام دیاگیا ہے۔ اب اس لڑکی نے تین نوجوانوں پر تشدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔لڑکی کے مطابق اس کے گھر دو مرد اور ایک عورت آئے تھے۔ تینوں نے اسے ہراساں کیا اور اس کے والد سے بات کرکے ا س کے والد کو گمراہ کیا ، جس کی وجہ اب باپ بھی لڑکی کی شادی کیخلاف ہو گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے اس معاملہ میں کہا ہے کہ کسی کو بھی لڑکی کے ذاتی فیصلے کی مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکی نے بتایا ہے کہ تین افراد اس کے گھر آئے تھے۔

انہوں نے اس کا برین واش کرنے کی کوشش کی، تاکہ وہ اپنے مسلم دوست سے شادی نہ کرے۔ جب اُس نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کردیا ،تو تینوں اس کے اہل خانہ کو دھمکانے لگے ۔اس کے بعد لڑکی نے پولیس کو واقعہ سے آگاہ کیا۔ پولیس نے تینوں #ملزمان کو طلب کیا ہے، لیکن ان میں سے صرف ایک شخص ہی وہاں آسکا۔

اس نے دعوی کیا کہ وہ لڑکی کے گھر اس کے والد کی صحت جاننے کی غرض سے گیا تھا۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی خاتون نہیں تھی، جب پولیس نے لڑکی کے والد سے بات کی تو اس نے اس شخص کیخلاف کوئی شکایت ہونے سے انکار کردیا۔رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ تینوں افراد کا تعلق ایک ہی مذہب سے ہے۔

تینوں کے بیانات قلمبند کردیئے گئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے لڑکی اور اس کے کنبہ کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا تھا، کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کیا گیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button