بین ریاستی خبریں

ہائی کورٹ نے ’پاور آف اٹارنی‘کے ذریعہ جائیداد رکھنے کے خلاف دائر درخواست خارج کی

نئی دہلی،15جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو اس درخواست پرسماعت سے انکارکردیاجس میں دہلی پولیس کو ہدایت دینے کی اپیل کی گئی تھی کہ جائیداد کے مالکانہ حق کے طورپر ’power of attorney‘ کو قبول نہ کرے۔چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ نے وکیل اور درخواست گزار سے پوچھاکہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ دہلی پولیس گھر گھر جاکر سروے کرے؟۔درخواست دائر کرنے والے ایڈوکیٹ منوہر لال شرما نے کہا کہ جب دہلی پولیس کو یہ شکایت موصول ہو کہ کسی شخص نے ’پاور آف اٹارنی‘ کی بنیاد پر جائیداد رکھی ہے تو اسے کارروائی کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ  #پاور #آف #اٹارنی  ایک غیر قانونی دستاویز ہے اور اگر کسی شخص نے کسی بھی #جائیداد کو اس کی بنیاد پر رکھا ہے تو پھر اس کے خلاف تعزیرات ہند اور بلیک منی #ایکٹ کے تحت کارروائی کی جانی چاہئے۔عدالت نے شرما سے کہا کہ وہ یا تو درخواست واپس لے ورنہ وہ اس پر جرمانہ عائد کردیاجائے گا۔عدالت نے کہا کہ ہم نوٹس جاری نہیں کرنا چاہتے، ہم وکیل پر جرمانہ نہیں لگانا چاہتے۔

اس کے بعد وکیل نے درخواست واپس لے لی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’پاور آف اٹارنی‘ کے ذریعے فروخت کرنا کالے دھن کو چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے کے لئے ہے جو ایک #سنگین #جرم ہے۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران انہوں نے پایا کہ ایجنٹ بہت ساری غیراعلانیہ جائیدادیں ’پاور آف اٹارنی‘ کے ذریعہ خریدتے ہیں اورپھر کرایہ کے کاروبار میں ان کااستعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button