بلیا ؍لکھنؤ، 16جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جمعرات کی دیرشب بلیا میں دو فریق آمنے سامنے ہوگئے۔ ایک فریق کا الزام ہے کہ لڑکی کی تصویر دوسرے فریق کے نوجوان نے سوشل میڈیا پر وائرل کی ہے۔ لڑکی کے لواحقین نے بھی نوجوان پر فون کالز کے دوران ناروا زبان استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے دیر شب دونوں فریقوں کے درمیان ہاتھا پائی 13 خواتین اور مرد زخمی ہوگئے ۔ دونوں فریق میں #تنازع کی اطلاع پر ضلع کے متعدد تھانوں کی پولیس نفری موقع پر پہنچ گئی۔
پولیس نے تمام زخمیوں کو سی ایچ سی ریو تی پہنچایا۔ یہاں سے تین افراد کو #ضلع اسپتال ریفر کردیا گیا ہے۔واقعے کی اطلاع پر اے ایس پی سنجے کمار ، ایس ڈی ایم بانس ڈیہہ، دشینت کمار ، سی او بھوشن ورما موقع پرپہنچے ،متعدد تھانوں کی نفری موقع پر طلب کرلی گئی۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے 17 نامزد اور پانچ نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔یہ معاملہ بلیاضلع کے قصبے ریوتی کا ہے۔ لڑکی کی طرف سے #لوگوں کا الزام ہے کہ قصبے کے رہائشی ایک دوسری برادری کے نوجوان نے دوسری برادری کی #لڑکی کی #تصویر #سوشل #میڈیا پر وائرل کردی ۔
جب لڑکی کے لواحقین نے نوجوان کیخلاف تھانے میں شکایت درج کروائی ،تو دوسری برادری کے افراد مشتعل ہوگئے۔اس کے بعد دوسری برادری کے لوگ مل کر بچی کے گھر پر دھاوا بول دیا ۔ اس کے بعد دونوں میں زبردست لڑائی ہوئی، اس میں 13 مرد اور خواتین زخمی ہوئے۔ تمام #زخمیوں کو سی ایچ سی ریوتی پہنچایا گیا۔ تین افراد کو تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ اسپتال ریفر کردیا گیا۔
سی او بھوشن ورما کے مطابق شکایت کی بنیاد پر متعلقہ دفعات کے تحت 17 نامزد اور پانچ نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، اس معاملہ میں سات افراد کو گرفتاربھی کرلیاگیا ہے۔ دیگر تمام ملزمان کی گرفتاری کی’ کوشش ‘کی جارہی ہے ۔



