بین ریاستی خبریں

یوپی میں نوکریاں تقسیم کرنے کا تماشہ ہورہا ہے:اکھلیش

لکھنؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سماج وادی پارٹی(ایس پی)سربراہ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ بے روزگاری کے اس دور میں اترپردیش میں لاکھوں نوکریاں بانٹنے کا تماشہ ہورہا ہے ۔جبکہ آئے دن نوجوان دھرنا۔مظاہرہ کررہے ہیں اور پولیس ان پر لاٹھیاں برسارہی ہے۔ #اکھلیش یادو نے منگل کو کہا کہ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں ہر سال 70لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن نوکری کسی کو نہیں ملی۔

#بی جے پی حکومت کے پانچ سال کے میعاد کار میں اب چند مہینے ہی بچے ہیں۔ تمام دعووں کے باوجود نہ تو باہر سے سرمایہ کاری آرہی ہے اور نہ ہی کاروبار لگ رہے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی حالت خراب ہے۔ آئے دن نوجوان احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں اور پولیس ان پر لاٹھیاں برسارہی ہے۔ انتظامیہ اور #حکومت ان کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔

ایک سروے رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں بےروزگاری کی شرح 5.92فیصدی تھی جبکہ 2019 میں یہ شرح بڑھ کر 9.97فیصدی ہوگئی۔ یعنی بے روزگار شرح میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 لاک ڈاؤں میں نکل گیا۔ 2021 میں پھر کیسے بے روزگار کی شرح کم ہوگئی۔ اس کا جواب وزیراعلی کو دینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ فروری میں 2020 میں بی جے پی حکومت نے خود مانا تھا کہ اترپردیش میں بے روزگاروں کی تعداد تقریبا 34لاکھ پہنچ گئی ہے جو کہ سال 2018کے سرکاری اعداد سے یہ تعداد 54فیصدسے زیادہ ہے۔ فروری2020 تک ہی 12لاکھ سے زیادہ نوجوانوں نے خود کو بے روزگار بتا کر سرکاری ویب سائٹ پر اپنا اندارج کرایا تھا۔ وزیر اعلی نے 4سالوں کے اختتام پر 4لاکھ روزگار دینے کا دعوی کر کے ریاست کے لاکھوں نوجوانوں کو صرف گمراہ کیا ہے۔

وزیر اعلی روزگار دینے کے بجائے صرف #پوسٹروں، #اشتہارات اور ہورڈنگوں کے سہارے اپنی ناکامی کو بیان کررہے ہیں۔ حقیقت میں سال 2022 کے انتخابات میں اپنی ہار یقینی دیکھتے ہوئے حواس باختہ بی جے پی قیادت حقیقت سے پردہ پورشی کی مہم چلارہا ہے۔ لیکن سچ کبھی چھپتا نہیں ہے اور جھوٹ کے پیر ٹکتے نہیں ہیں۔ یہ بات بی جے پی کو یاد رکھا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button