جموں وکشمیر میں شدید بارش سے تباہی، خطرناک نالے میں چھلانگ لگا کر بشیر نے بچائی 3لوگوں کی جان
سرینگر، 29 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جموں و #کشمیر میں ایک طرف زبردست بارش اور طوفان نے تباہی مچا رکھی ہے۔ دوسری طرف ایسی تصویر بھی سامنے آئی ہے جو #انسانی روح اور ہمت کی مثال بن چکی ہے۔ بدھ کی شام کو #موسلادھار #بارش کے بعد وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں سے بہنے والے سندھ نالے میں پانی بڑی تیزی کے ساتھ بڑھا اور اس ندی نے ایک زبردست شکل اختیار کرلی۔دریائے وسط میں لکڑی جمع کرنے گئے تین نوجوان اس #سیلاب کے #پانی میں پھنس گئے، جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ موت کے قریب تر ہوتے جارہے تھے۔
پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی موقع پرپہنچ گئیں، لیکن پانی کا بہاؤ اتنا مضبوط تھا کہ کوئی اسے عبور کرنے کی ہمت نہیں کرسکا۔ مجبورا پولیس نے اس خبر کو علاقے کے ایک تیراک بشیر احمد میر کو بھیجا۔ بشیر بغیر وقت ضائع کئے موقع پر پہنچا اور پھر کیا تھا۔ جونہی وہ پہنچا فورا نالے میں #چھلانگ لگائی اور تیز پانی سے لڑتے ہوئے دوسرے #ساحل پر پہنچ گیا۔
اس کے بعد تینوں لڑکوں کو نکالنے کا کام شروع کیا۔ پہلے #بشیر کیلئے ایک رسی لائی گئی اور پھر ایک رسی کی مدد سے ایس ڈی آر ایف کی ربڑ کی کشتی، جس میں تینوں لڑکوں کو تقریباپانچ گھنٹے کی مشقت کے بعد بچایا گیا لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب پولیس یا ایس ڈی آر ایف نے امدادی کام کے لئے بشیر کی مدد لی ہے۔ بشیر گذشتہ بیس سالوں سے دریائے سندھ میں درجنوں جانیں بچا رچکاہے اور بغیر کسی معاوضے کے جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف، آرمی، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور ضلعی انتظامیہ کے لئے کام کر رہا ہے۔



