جو بھی کارروائی کی گئی وہ قانون پر مبنی تھی
ممبئی،26؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے خلاف مرکزی وزیر نارائن رانے کے تھپڑوالے تبصرہ معاملے نے ریاست کی سیاست میں ہنگامہ کھڑا کردیا۔ منگل کو اس معاملے میں رانے کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم اسی دن کی رات رائے گڑھ کی ایک عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کہا ہے کہ نارائن رانے کیس اب ختم ہوچکا ہے اور جو کارروائی کی گئی وہ قواعد پر مبنی تھی۔
#شیوسینا لیڈر #راؤت نے کہا کہ برسوں بعداب ادھو ٹھاکرے کا چپل والا بیان یاد آ رہا ہے، یہ کب اور کیوں دیا گیاتھا، اسے دیکھیں۔ اب برسوں بعد آپ کو یہ دکھائی دے رہا ہے ۔ ہمارے یہاں آنکھوں کے #ڈاکٹر ہیں ان سے آپ کا علاج کرایا جائے گا۔ ایک اور سوال پر راؤت نے کہا کہ انل پرب نے #پولیس کو کیا حکم دیا، میں نہیں جانتا۔ لیکن وہ کابینہ کے وزیر ہیں، ادھو ٹھاکرے کے کابینہ کے تمام وزراء حکومت میں ہیں۔
مخالفین کو یاد رکھنا چاہیے کہ #مہاراشٹرا کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنا سفر (جن آشیرواد یاترا) جاری رکھیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ بی جے پی کومغربی بنگال میں شکست کو نہیں بھولنا چاہیے۔ آپ یہاں حکومت گرانے کی کوشش کرتے رہیں۔



