بنارس میں 24 دن سے دھرنے پر بیٹھے نابینا بچوں کو نصف شب میں پولیس نے زبردستی اٹھایا
وارنسی،30؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وارانسی میں 24 دنوں سے دھرنے پربیٹھے نابینا بچوں کو پولیس نے زبردستی کرکے اٹھالے گئی۔ نابینا بچوں کا الزام ہے کہ پولیس نے زبردستی دھرنا ختم کیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ درگا کنڈ کے علاقے میں واقع ہنومان پرساد پودر بلائنڈ اسکول میں نویں سے بارہویں کلاس شروع کرنے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ بصارت سے محروم بچے اسکول میں نویں سے بارہویں جماعت کے لیے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
طلبہ نے ان کی بات مان کر سڑک سے اپنا دھرنا ہٹا کر کنارے چلنے کی بات کہی تھی ، لیکن نصف شب میں پولیس انہیں اٹھالے گئی۔ طلبہ کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھ زبردستی کی ۔ بصارت سے محروم بچوں کے احتجاج کا پورا معاملہ ٹرسٹ کی جانب سے 9 سے 12 تک کی کلاس ختم کرنا ہے۔ بچے کہہ رہے ہیں کہ اسکول ٹرسٹ کے ٹرسٹی اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے بڑے بچوں کی کلاسیں بند کر رہے ہیں۔
ایک الزام یہ بھی ہے کہ آہستہ آہستہ وہ پورے اسکول کو بند بھی کر سکتے ہیں۔جبکہ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ بچوں کی بے ضابطگی بہت بڑھ گئی تھی، جس کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ گزشتہ24 دنوں سے بچے اپنے مطالبے پر بضدتھے۔ جب احتجاج کرنے والے بچوں نے خود ضلعی حکام سے رابطہ کیا تو عہدیداروں نے یہ کہتے ہوئے کوئی قدم اٹھانے سے انکار کردیا کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔



