
چنڈی گڑھ، 30 اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش اور گجرات جیسی ریاستوں میں برسراقتدار بی جے پی حکومت نے ’لو جہاد‘ یعنی مبینہ طور پر جبراً تبدیلی مذہب کو لے کر سخت قوانین نافذ کر دیا ہے اور اب بی جے پی حکمراں ہریانہ میں بھی کچھ ایسا ہی قانون لانے کی تیاری چل رہی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جبراً مذہب تبدیلی کے حالات سے نمٹنے کے لیے قانون کی ضرورت ہے، اور جلد اس سلسلے میں ایک مسودہ تیار کیا جائے گا۔
منوہر لال کھٹر کا جو بیان میڈیا میں سامنے آ رہا ہے اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ریاست میں مذہب تبدیلی کے کئی معاملے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ہریانہ کے کئی حصوں سے مذہب تبدیلی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ہمیں ایک قانون کی ضرورت ہے۔ اس تعلق سے ایک اسٹڈی کیا گیا ہے اور جلد ہی قانون کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔
اس تعلق سے تفصیل بیان کرتے ہوئے منوہر لال کھٹر نے یہ بھی کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ اسے آرڈیننس کی شکل میں پیش کیا جائے یا اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ کھٹر نے کسانوں کے معاملے پر بھی میڈیا سے بات کی اور خراب حالات کے لیے اپوزیشن پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ قابل ذکر ہے کہ ہریانہ میں گزشتہ دنوں کسانوں پر پولیس نے بے رحمی سے لاٹھی چارج کیا تھا جس پر کھٹر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔



