بین ریاستی خبریں

اپہار آتشزدگی کیس: شواہد کومسخ کرنے پر سوشیل اور گوپال انسل کو سات سال قید، 2.25 کروڑ کابھی جرمانہ

نئی دہلی ،8نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اپہار آتشزدگی کیس میں دہلی کی ایک عدالت نے سوشیل اور گوپال انسل کو ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔ وہیں عدالت نے دونوں پر 2.25 کروڑ کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔سوشیل انسل اور گوپال انسل نے قانون کی بالادستی کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف دہلی کی عدلیہ کی ادارہ جاتی سا لمیت کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ فوجداری نظام انصاف کی انتظامیہ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

ایسے مجرموں کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ مجرموں کو عمر قید کی سزا دی جائے۔ دہلی پولیس اور متأثرین نے اپہار کیس میں شواہد کو مٹانے کے معاملے میں مجرم انسل بھائیوں اور دیگر کی سزا کے تعین پر عدالت کے سامنے مذکورہ دلائل پیش کیں۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پنکج شرما کے سامنے انہوں نے کہا کہ سوشیل انسل اور گوپال انسل نامی بدمعاشوں سے بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اسے اہم کیس میں بھی سزا سنائی گئی ہے اور اس کیخلاف کئی دیگر فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔اس کیس نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ امیر اور طاقتور کسی بھی چیز سے بچ سکتے ہیں اور وہ عدالتی نظام کو اپنے حق میں کر سکتے ہیں۔

عدالت کے احترام کے لیے اس طرح کے مفسدانہ خیالات کو بھی ختم کرنا ہوگا، عدالت ایسے سنگین جرم پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔دوسری جانب انسل برادران کے وکیل نے رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر 80 سال سے زیادہ ہے اور وہ خاندان کے تنہا کمانے والے فرد ہیں۔

ان کی دو بیٹیاں الگ رہتی ہیں، اس کے علاوہ بیوی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس سے دو ہزار لوگوں کو روزگار ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کو 30 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے۔ اس دلیل پر متاثرین کی ایسوسی ایشن کی صدر نیلم کرشنامورتی نے سخت اعتراض ظاہر کیا اور کہا کہ وہ اب بھی عدالت کو گمراہ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button