بین الاقوامی خبریں

 نیو یارک شہر کے میئر کرپٹو کرنسی میں ملنے والی تنخواہ کا استعمال کیسے کریں گے؟ 

واشنگٹن ، 23جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسی کو دنیا کا مستقبل سمجھنے والے نیو یارک شہر کے نئے میئر ایرک ایڈمز آج اپنی پہلی تنخواہ کرپٹو کرنسی میں وصول کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کریکشن کے بعد کرپٹو مارکیٹ بھی کریش کر گئی ہے اور محض 24 گھنٹوں میں کرپٹو کرنسیز کی مجموعی قدر میں دو ارب ڈالرز کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
کرپٹو میں تنخواہ حاصل کرنے کا یہ قصہ دراصل گزشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوا جب امریکہ کے نوجوان کروڑ پتی سرمایہ کار مائیک پومپلیانو نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ امریکہ میں کرپٹو کرنسی میں تنخواہ وصول کرنے والا پہلا سیاست دان کون ہو گا؟ اس ٹوئٹ کے جواب میں اپنے شہر کو سیلی کون ویلی اور وال اسٹریٹ کا امتزاج اور سرمائے کا دارالحکومت بنانے کے خواہش مند میامی شہر کے میئر فرانس سواریز نے جواباً کہا کہ وہ اپنا اگلا چیک کرپٹو کرنسی میں وصول کریں گے۔
یہ بات بھلا دنیا کے فنانشل کیپٹل کہلانے والے نیو یارک شہر کے میئر کو کیسے قبول ہوتی۔ میئر ایرک ایڈمز نے فوری اعلان کیا کہ نیویارک ہمیشہ بڑا کام کرتا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ بطور میئر نیویارک وہ اپنی پہلی تین تنخواہیں بٹ کوائن میں وصول کریں گے۔اس طرح وہ دن آ گیا ہے کہ جب انہیں بطور میئر اپنی پہلی تنخواہ کرپٹو کرنسی میں مل رہی ہے۔ مگر سب کچھ ویسا نہیں ہوا جیسا انہوں نے کہا تھا۔
امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے قوانین کے تحت نیو یارک شہر اپنے ملازمین کو ڈالرز میں ہی تنخواہ دے سکتا ہے۔ اس لیے ان کا پہلا چیک وصول ہوتے ہی کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس کے ذریعے بٹ کوائن اور ایتھیریم کرنسیوں میں تبدیل ہو جائے گا یا اب تک ہو بھی چکا ہوگا۔
کوائن بیس کا شمار ملک کے بڑے کرپٹو ایکسچینج میں ہوتا ہے۔ یہ ایکسچینج کسی بینک کی ہی طرح کام کرتے ہیں جہاں کرپٹو میں خریداری، فروخت، ایکسچینج، تجارت کے علاوہ سرمایہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

سوال یہ بنتا ہے کہ تنخواہ کرپٹو کرنسی میں تبدیل ہونے کے بعد میئر ایرک ایڈمز اسے خرچ کیسے کریں گے؟

نیو یارک کی سب ویز پر ٹرین ٹکٹ کرپٹو سے نہیں خریدا جاسکتا۔ سودا سلف ہو یا ریٹیل شاپنگ سب ہی کچھ فی الحال ڈالر پر چل رہا ہے۔ شہر میں شاید ہی چند ریستوران ایسے ہوں جو کرپٹو میں ادائیگی قبول کرتے ہوں۔بجلی، گیس، پانی اور ٹیلی فون کے بلز کی ادائیگی بھی ڈالرز میں ہی ہورہی ہے اور تو اور اگر تو میئر ایڈمز کا مکان اگر بینک سے لیے گئے رہن پر خریدا گیا ہے تو وہ اس کی ادائیگی کے لیے بھی ڈالرز کی ہی ضرورت پڑے گی۔
یعنی میئر ایڈمز پھر سے اپنی پوری تنخواہ یا اس کا کچھ حصہ ڈالر میں تبدیل کرائیں گے۔آپ کے ذہن میں یقیناً یہ سوال آرہا ہوگا کہ تو پھر تنخواہ کو پہلے ڈالرز سے کرپٹو اور کرپٹو سے دوبارہ ڈالرز میں تبدیل کرانے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟

کرپٹو کرنسی کا مستقبل کیا ہے؟

اس کا جواب ماہرین آپ کو یہ دیں گے کہ کرپٹو کرنسی ہمارا مستقبل ہے۔کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس کے سینئر ڈائریکٹر پراکاش ہریرانانی نے گزشتہ سال کمپنی بلاگ پر بغیر ٹرانزیکشن فیس کے ڈالر سے کرپٹو میں مکمل یا جزوی تنخواہ جمع کرانے، ڈیبٹ کارڈ کی طرز پر کوائن بیس کارڈ کی سہولت اور دیگر پراڈکٹس متعارف کرنے کا اعلان کیا۔
آپ اسے یوں سمجھے کہ ابتدائی زمانہ میں لوگ اشیا کے لین دین سے ضروریات پوری کرتے تھے، پھر سونے چاندی جیسی قیمتی دھاتوں نے اس کی جگہ لے لی۔ بعد میں سکے آئے اور اس کے بعد نوٹوں کے ذریعے مالیاتی نظام ترتیب دیا گیا۔پھر کریڈٹ کارڈز متعارف کرائے گئے جسے قبولیت حاصل ہوتے ہوتے کئی دہائیاں لگ گئیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے اور کرپٹو انسان کا متوقع مستقبل ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button