بین الاقوامی خبریں

امریکہ ہمیں فوجی تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے: روسی صدر پوٹن

ماسکو،2 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی صدر نے مغرب پر ماسکو کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ پوٹن نے کہا کہ امریکہ یوکرائن بحران کے حوالے سے روس کو فوجی تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہیگ، لیکن وہ با ت چیت کے لیے اب بھی تیار ہیں۔

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے ساتھ  ملاقات کے بعد ماسکو میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر یوکرائن معاملے میں سکیورٹی کے حوالے سے ماسکو کے خدشات اور اہم مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ کریملن یوکرائن بحران کو حل کرنے کے لیے اب بھی مزید بات چیت کے لیے تیار ہے۔

پوٹن کا یہ بیان یوکرائن پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تعطل کے حوالے سے پہلا عوامی بیان ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ اور نیٹو نے گوکہ کریملن کے مطالبات کا جواب دیا تھا تاہم پوٹن کا کہنا ہے روس کی درخواستیں ‘بہرے کانوں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئی ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم امریکا اور نیٹو کی طرف سے موصول ہونے والے تحریری جواب کا باریکی سے تجزیہ کر رہے ہیں۔ ولادیمیر پوٹن نے واضح طور پر کہا کہ مغرب نے نیٹو کی جانب سے یوکرائن اور دیگر سابق سوویت ریاستوں کو اتحاد میں شامل نہ کرنے، روسی سرحدوں کے قریب ہتھیاروں کی تنصیب سے باز رہنے اور مشرقی یورپ سے فوجیں واپس بلانے جیسے روسی مطالبات کو نظر انداز کر دیا ہے۔

روسی صدر نے تاہم کہاکہ مجھے امید ہے کہ ہم آخر کار کوئی حل تلاش کرلیں گے حالانکہ ہمیں احساس ہے کہ یہ آسان نہیں ہوگا۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق ولادیمیر پوٹن کے اس بیان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یوکرائن پر ممکنہ روسی حملے کا مستقبل قریب میں امکان نہیں ہے اور روس سفارت کاری کو ایک اور موقع دینا چاہتا ہے۔

حالانکہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور امریکا کی جانب سے کسی مراعات کی امید بظاہر کم نظر آرہی ہے۔ولادیمر پوتن کا کہنا تھاکہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کو یوکرائن کی سکیورٹی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد روس کی ترقی کو روکنا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ امریکہ روس پر قابو پانے کی کوششوں میں یوکرائن کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔روسی صدر نے الزام لگایاکہ واشنگٹن ہمیں فوجی تنازعے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہا اور وہ یورپ میں اپنے اتحادیوں کو ان سخت پابندیوں کے لیے مجبور کرسکتا ہے جن کے بارے میں امریکا دھمکیاں دے رہا ہے۔پوٹن نے دعویٰ کیاکہ دوسرا ممکنہ متبادل یہ ہوگا کہ یوکرائن کو نیٹو میں شامل کیا جائے،

وہاں خطرناک ہتھیاروں کی تنصیب کی جائے اور یوکرائنی قوم پرستوں کو باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حصے یا کریمیا پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے، ایسا کرنا ہمیں ایک فوجی تنازع کی جانب دھکیل دے گا۔

پوتن نے کہا کہ تصور کریں کہ یوکرائن نیٹو کا رکن بن جاتا ہے اور وہ فوجی آپریشن شروع کرتا ہے تو کیا پھر ہمیں نیٹو سے جنگ کرنی چاہیے؟ کیا کسی نے اس کے بارے میں سوچا ہے؟

روسی صدر کا کہنا تھا کہ اب بھی ایسے تصفیے پر بات چیت ممکن ہے جس میں ہر فریق کے تحفظات کو مدنظر رکھا جائے۔ہمیں یوکرائن، یورپی ممالک اور روس سمیت تمام فریقوں کے مفادات اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button