بین الاقوامی خبریں

فرانس مغربی آفریقہ کے صحرا میں ایک دہائی سے جنگ کیوں کر رہا ہے؟

لندن،19فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فرانس اور اس کے عسکری اتحادی تقریباً ایک دہائی تک آفریقی مسلمان باغیوں سے لڑنے کے لیے مالی کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کرنے کے بعد اب اِسے چھوڑ رہے ہیں۔

فرانس یہاں کیوں آیا اور اسے کیا قیمت چکانا پڑی؟

مالی میں طوراق یا طوراگ نامی قبائل ایک عرصے سے حکومت مخالف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

سن 2012ء میں ایسا ہوا کہ القاعدہ کے شمالی آفریقی ونگ ( اے کیو آئی ایم) کے اراکین نے طوراق بغاوت کو تقریبا ہائی جیک‘ کر لیا۔اس وقت فرانسیسی فورسز نے ان کا مقابلہ کیا اور ان باغیوں کو پسپا کر دیا۔

تاہم سن 2015میں مقامی طوراق اور جہادی باغیوں نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور مالی کے شمال اور وسط میں دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔سن 2017میں القاعدہ کے شمالی افریقی ونگ نے دیگر جہادی گروپوں کے ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد قائم کیا۔

جس کا نام جماعت نصر الاسلام و المسلمین (جے این آئی ایم) رکھا گیا۔ اسی طرح سن 2015میں ہی ایک دوسرا جہادی گروہ منظرعام پر آیا اور اس نے اسلامک اسٹیٹ سے اتحاد کر لیا۔ اس کا نام اسلامک اسٹیٹ ان دی گریٹر صحارا (آئی ایس جی ایس)رکھا گیا۔

یہ سبھی گروپ اب مالی، برکینا فاسو اور نائجر کے متعدد علاقوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کے زیر کنٹرول رقبہ جرمنی کے رقبے سے بھی بڑا ہے۔جن علاقوں میں یہ مسلح گروہ اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں، وہاں دنیا کی غریب ترین کمیونیٹیز آباد ہیں۔

ان کی کارروائیوں میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں عام شہری بھی مارے جاتے ہیں۔ فریقین کی مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک جبکہ بیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس نے مالی میں اپنے تقریبا 2400 فوجیوں کے ساتھ اس لڑائی کی قیادت کی ہے۔ نائیجر میں امریکا کے 800 طاقتور فوجی موجود ہیں اور وہ اپنے فوجی اڈے سے مسلح ڈرونز کے ذریعے کارروائیاں کرتے ہیں۔

نائیجر میں جرمنی اور اٹلی کے فوجی بھی موجود ہیں۔ یورپی ممالک وہاں تقبہ اسپیشل فورسز مشن میں شریک ہوئے۔ اس مشن کی سربراہی بھی فرانس کے ہاتھ میں تھی لیکن اب یہ مشن بھی ختم ہو جائے گا۔

اسی خطے میں افریقی فورسز، جس کا نام جی فائیو ساحل ہے، تعینات ہیں۔ اس فوجی اتحاد میں مالی، نائجر، چاڈ، برکینا فاسو اور موریطانیہ کی سرکاری فورسز شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق گزشتہ برس وسطی مالی میں ایک شادی پر فضائی حملے کے نتیجے میں 19 غیر مسلح شہری مارے گئے تھے۔

فرانس ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر رہا ہے۔دریں اثنا باغیوں کے حملے بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ مقامی جمہوری حکومتیں اس خطرے سے نمٹنے کے قابل نہیں تھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button