لندن ،19فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایک سال قبل ایسا دکھائی دیتا تھا کہ لیبیا Libya میں جمہوری عمل کو استحکام مل سکتا ہے۔ اب یہ ملک پھر سے انتشار اور تقسیم کا شکار ہو گیا ہے۔اس ملک میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہے۔
گزشتہ برسوں میں شمالی آفریقی ملک لیبیا کے دوبارہ اتحاد کی جانب کچھ قدم ضرور اٹھائے گئے لیکن اب اس عمل میں مزید پیش رفت مشکل دکھائی دیتی ہے بلکہ جو قدم اٹھائے گئے تھے وہ بھی انتشار و افراتفری کی خاک میں دھندلا گئے ہیں۔
انہی اقدام کے تحت گزشتہ برس چوبیس دسمبر کو صدارتی انتخابات منعقد کرانے کی کوشش کی گئی، جو ضائع ہو گئی۔اسی صدراتی الیکشن میں لیبیا کے سابق صدر معمر القذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے بھی شرکت کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے تھے۔
بعض سیاسی مبصرین کے مطابق اس شمالی آفریقی ملک میں اتحاد و اتفاق کی کوششوں کے تحلیل ہونے میں یہ بھی ایک قدم کسی حد تک قرار دیا جا سکتا ہے۔بظاہر چوبیس دسمبر کے صدارتی انتخابی عمل کو موجودہ عبوری حکومت کا متبادل قرار دیا گیا تھا۔
الیکشن کا مقصد اصل میں عبوری حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید محمد الدبیبہ کی ذمہ داریوں کو منتقل کرنا تھا۔ لیکن انتخابی عمل مکمل نہیں ہو سکا۔ الدبیبہ کو وزارتِ عظمیٰ لیبیا پولیٹیکل ڈائیلاگ فورم نے تفویض کی تھی۔
دوسری جانب پچھلے ہی سال 10 فروری کو لیبیا کی پارلیمنٹ نے سابق وزیر داخلہ فتحی باشاغا کو حکومت تشکیل دینے کا فریضہ سونپا اور اسی وقت اگلے چودہ ماہ کے اندر الیکشن کرانے کا اعلان بھی کیا گیا۔
الدبیبہ نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑنے سے انکار کر دیا اور الیکشن تک منصب پر براجمان رہنے کا عندیہ دیا۔ دو وزرائے اعظم نے بھی اتحاد کے عمل کو زوال کا شکار کیا۔
لیبیا کے عوام اور اس ملک پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں دو متوازی حکومتوں کا ایک ساتھ قیام حقیقت میں انتشار اور عدم استحکام کا سبب بنا ہوا ہے۔
اس سیاسی بے چینی کی وجہ سے مزید داخلی مسلح سرگرمیوں کے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔لیبیا سن 2011 سے عرب دنیا میں جمہوری تحریکوں کے سلسلے عرب اسپرنگ کے وقت سے عدم اتفاق و اتحاد اور متحارب قبائلی حلقوں کی دشمنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔
اس وقت یہ ملک مشرق و مغرب میں تقسیم ہے اور ان حکومتوں کو مسلح ملیشیا گروپوں کی عملی حمایت حاصل ہے۔ان کے غیر ملکی مددگار ممالک بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے کئی ایلچیوں نے گھمبیر صورت حال کی شدت دیکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑنے میں عافیت سمجھی ؛کیونکہ متحارب گروپ ہتھیار پھینکنے پر راضی نہیں ہوئے۔



