بین الاقوامی خبریں

  بوسنیا کی تقسیم قطعاً قبول نہیں کریں گے: یورپی یونین

برسلز، 21فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے نگران عہدیدار یوزیپ بوریل نے کہا ہے کہ بلقان کی ریاست بوسنیا میں پائی جانے والی موجودہ کشیدگی بہت تشویش ناک ہے مگر یورپی یونین European Union بوسنیا کی کوئی بھی ممکنہ تقسیم قطعاًتسلیم نہیں کرے گی۔
جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میں جاری تین روزہ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے آخری دن یوزیپ بوریل نے بوسنیا ہیرسے گووینا کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ بلقان کی اس ریاست کی مستقبل میں ممکنہ جغرافیائی تقسیم کا راستہ روکیں۔
میونخ سکیورٹی کانفرنس کے شرکا سے اپنے خطاب میں یورپی یونین کے اس اعلیٰ ترین سفارت کار نے کہاکہ بوسنیا کی موجودہ صورت حال پہلے سے کہیں زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ یہ صورتحال کبھی بھی بہت آسان نہیں رہی، لیکن وہاں اس وقت نظر آنے والے رجحانات حقیقی طور پر انتہائی پریشان کن ہیں۔
بوسنیا کی جنگ کے اختتام کا سبب بننے والا ڈیٹن امن معاہدہ امریکی کوششوں سے امریکہ ہی میں اسی نام کے ایک شہر میں ایک چوتھائی صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل طے پایا تھا۔
بلقان کی اس ریاست کی تازہ صورت حال کے پیش نظر امریکہ نے گزشتہ ماہ میلوراد ڈوڈک پر نئی پابندیاں بھی لگا دی تھیں۔میلوراد ڈوڈک بوسنیا ہیرسے گووینا کی وفاقی ریاست کی جغرافیائی حدود کے اندر اس بوسنی سرب جمہوریہ کے رہنما ہیں،جو جمہوریہ سرپسکا کہلاتی ہے اور جس کا انتظام بھی بوسنی سربوں ہی کے پاس ہے۔
ڈوڈک کا گزشتہ کئی برسوں سے مطالبہ ہے کہ بوسنی سرب جمہوریہ سرپسکا بوسنیا ہیرسے گووینا کی وفاقی ریاست سے علیحدہ ہو جائے اور پھر اسے ہمسایہ ملک سربیا میں شامل کر دیا جائے۔
امریکہ نے جنوری میں میلوراد ڈوڈک پر نئی پابندیاں لگاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ کرپٹ نوعیت کی سرگرمیوں‘ میں ملوث ہیں اور پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔بوسنیا ہیرسے گووینا میں پائی جانے والی شدید سیاسی بے چینی کے تناظر میں یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ بوریل نے کہا کہ میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ ہم امریکہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
میری امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن سے اس بارے میں تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور ہم نے کھل کر خبردار بھی کر دیا ہے۔ ہم بوسنیا ہیرسے گووینا کی موجودہ ریاست کی جغرافیائی تقسیم یا اس میں کسی بھی قسم کی ٹوٹ پھوٹ برداشت نہیں کریں گے۔
یوزیپ بوریل نے مزید کہا کہ وہ بوسنی سرب رہنما میلوراد ڈوڈک کے ساتھ بھی رابطے میں رہے ہیں، جس دوران انہوں نے ڈوڈک پر زور دیا کہ وہ بوسنیا ہیرسے گووینا میں تمام موجودہ ریاستی ڈھانچوں میں اپنی اور بوسنی سرب جمہوریہ کی شرکت کو یقینی بنائیں۔
بوسنی سربوں کی قیادت کی کوشش ہے کہ اب تک کے مشترکہ ریاستی انتظامات کے برعکس، جمہوریہ سرپسکا کا عوامی ٹیکسوں کی وصولی کا اپنا نظام اور اپنی علیحدہ عدلیہ ہونے چاہییں۔
اس کے علاوہ سرپسکا کی مسلح افواج بھی اپنی ہونا چاہئے۔ان دونوں حکومتی اکائیوں کو بوسنیا کے مشترکہ ریاستی اداروں کے ذریعے باہم مربوط کیا گیا ہے اور ریاستی سطح پر تمام اقدامات کے لیے بوسنیا ہیرسے گووینا کے تمام نسلی گروپوں کو جملہ حکومتی فیصلے اتفاق رائے سے کرنا ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button