دبئی، 22فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات فی الحال انکم ٹیکس متعارف کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔یہ بات یواے ای کے خارجہ تجارت کے وزیرمملکت ثانی الزیودی نے پیرکو بلومبرگ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔ان کے اس اعلان سے چند روز قبل ہی یو اے ای نے کمپنیوں پرایک نیا ٹیکس متعارف کرایا ہے۔
یواے ای نے اس سال کے اوائل میں 2023سے 9 فیصدکارپوریٹ ٹیکس عایدکرنے کااعلان کیا تھا کیونکہ وہ خود کونئے بین الاقوامی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرناچاہتا ہے،
خاص طور پر 20 بڑی معیشتوں پرمشتمل گروپ کی حمایت یافتہ ملٹی نیشنل کارپوریشنوں پرکم سے کم ٹیکس کی طرف پیش رفت چاہتا ہے۔وزیرثانی الزیودی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے نئے کارپوریٹ ٹیکس کا کاروباری اداروں کی جانب سے مثبت اندازمیں خیرمقدم کیا گیا ہے کیونکہ یہ ٹیکس اب کمپنیوں کو ادا کی جانے والی زیادہ تر فیسوں کی جگہ لینے جا رہا ہے۔
خلیجی ملک پہلے ہی کاروباری اداروں اورافراد دونوں کے لیے ’’ٹیکس جنت‘‘ کے طور پر اپنی ساکھ کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کرچکا ہے۔
اس نے 2018 میں 5 فی صد ویلیو ایڈڈ ٹیکس متعارف کرایا تھا اور وہ پہلے ہی ملک کے آزاد زونز کے وسیع نیٹ ورک سے باہر کام کرنے والے بینکوں اورانشورنس کمپنیوں کے منافع پر20 فی صد تک ٹیکس عاید کرتا ہے۔
یو اے ای تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک میں تیسرا بڑا پیداکنندہ ہے اور اس کے ہاں تیل اورگیس کے شعبے پر بھی ایک علاحدہ پروگرام کے تحت ٹیکس عاید کیا جاتا ہے۔
توقع ہے کہ اگلے چند ہفتوں کے دوران میں وزارت خزانہ مزید تفصیل کا اعلان کرے گی جس میں واضح کیا جائے گا کہ کارپوریٹ ٹیکس کیسے عائدکیا جائے گا۔



