قومی خبریں

ساس کو لگا عدلیہ سے زبردست جھٹکا: شوہر سے علیحدگی کے بعد بھی بیوی کا سسرال میں رہنے کا حق: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی، 23مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شوہر بیوی اور سسرال کے معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت عورت کو سسرالی گھر میں رہنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ وہ ازدواجی حقوق کی بحالی کے لیے شوہر کی درخواست کی مخالفت کر رہی ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ سسرال کے گھر میں رہائش کا حق ہندو میرج ایکٹ کے تحت پیدا ہونے والے کسی بھی حق سے مختلف ہے۔ وہیں ہائی کورٹ نے خاتون کی ساس کی اس دلیل کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب بہو اپنے بیٹے کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہے، تو پھر اسے بھی رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

جسٹس چندر دھاری سنگھ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف جوڑے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ درخواست میں جوڑے نے گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت خاتون کو اپنے سسرال میں رہنے کا حق دینے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ گھریلو تشدد ایکٹ 2005 کے تحت رہائش کا حق ہندو میرج ایکٹ 1955 کے سیکشن 9 (ازدواجی حقوق کی کارکردگی) کے تحت پیدا ہونے والے کسی بھی حق سے الگ نہیں ہے۔درخواست گزار نے بتایا تھا کہ اس کی بہو ستمبر 2011 میں جھگڑے کے بعد سسرال سے چلی گئی تھی۔ درخواست گزار نے کہا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف 60 سے زائد دیوانی مقدمات درج ہیں۔

ان میں سے ایک مقدمہ خاتون نے گھریلو تشدد ایکٹ 2005 کے تحت درج کرایا تھا اور کارروائی کے دوران خاتون نے متعلقہ جائیداد میں رہائش کے حق کا دعویٰ کیا تھا۔ مقدمہ میں ٹرائل کورٹ نے خاتون کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھر کی پہلی منزل پر رہنے کی حقدار ہے۔ اس حکم کو سیشن کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button