سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حوثی باغیوں کا حملہ-جدہ کے آئل ڈپو سے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے
الریاض،26مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع تیل کے ایک گودام میں ایک ایسے موقع پر آگ بھڑک اٹھی جب کہ وہاں معروف عالمی کار ریس فارمولہ ون ہونے والی ہے۔باغی حوثیوں کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آگ ان کے حملے کے نتیجے میں لگی ہے۔
ایسوسی ایٹڈپریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ وہی آئل ڈپو ہے جہاں حوثیوں نے چند روز پہلے بھی حملہ کیا تھا۔ان دنوں فارمولا ون ریس کے لیے جدہ میں مشقیں ہو رہی ہیں اور کئی غیر ملکی صحافی اس کی کوریج کے لیے وہاں مقیم ہیں۔ اے پی کے ایک رپورٹر نے بتایا ہے کہ جمعے کی سہ پہر شہر سے تقریباً سات میل کے فاصلے پر واقع ایک بڑے آئل پلانٹ کے گوداموں سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔
فوری طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور حکام نے بھی اس بارے میں کچھ بتانے سے احتراز کیا۔تاہم، یمن کے حوثی باغیوں کے سیٹلائٹ چینل المسرہ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ باغیوں نے جدہ میں آرامکو آئل ڈپو ، ریاض اور کئی دوسرے مقامات پر حملے کیے ہیں۔
لیکن ان حملوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ باغیوں نے الظہران میں پانی کی ایک ٹینکی کو نشانہ بنایا اور وہاں کچھ گاڑیوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
اس کے علاوہ یمن کے قریب ایک سرحدی علاقے میں بجلی کے ایک گرڈ اسٹیشن کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔جدہ کے اس آئل ڈپو میں پیٹرول، ڈیزل اور طیاروں کے ایندھن کو ذخیرہ کیا جاتا ہے جو علاقے کی زیادہ تر ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ سن 2020 میں ہوثیوں نے اس تنصیب پر کروز میزائل سے پانچ لاکھ بیرل کی گنجائش رکھنے والے ڈیزل کے ایک ٹینک پر حملہ کیا تھا جس کی مرمت پر آرامکو کو 15 لاکھ ڈالر سے زیادہ صرف کرنے پڑے تھے۔
50 ٹیمیں ارامکو کی تنصیب میں لگی آگ بجھانے میں مصروف
سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں ارامکو کمپنی کے پٹرول ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر بھڑکنے والی آگ کو بجھانے کی کوششیں ہفتے کے روز بھی جاری ہیں۔ خبر کے مطابق شہری دفاع اور فائر بریگیڈز کی 50 ٹیمیں اس وقت آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔جدہ میں ارامکو اسٹیشن کی براہ راست تصاویر میں جائے حادثہ سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سعودی وزارت توانائی کے ایک ذمے دار کے مطابق جدہ کے شمال میں واقع پٹرولیم مصنوعات کی ڈسٹریبیوشن کے مذکورہ مرکز کو جمعہ 25 مارچ کو شام 5:25 پر راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح جازان صوبے میں بھی المختارۃ اسٹیشن پر بھی شام 5 بجے راکٹ داغا گیا۔ دونوں حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
عالمی برادری کو حوثیوں کے خطرے سے آگاہ ہونا چاہیے: سعودی عرب
سعودی عرب کی وزارت توانائی کے ایک سرکاری ذریعے نے جمعے کو بتایا کہ شمالی جدہ میں پٹرولیم مصنوعات کے ڈسٹری بیوشن کے اسٹیشن پر کل جمعہ 22 شعبان 1443 بہ مطابق 25 مارچ 2022 کی شام 5 بجکر 25 منٹ پر میزائل حملہ کیا گیا۔ اسی طرح گذشتہ شام پانچ بجے جازان کے علاقے میں واقع المختارہ اسٹیشن پر بھی میزائل سے حملہ کیا گیا۔
تاہم ان مجرمانہ حملوں کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ذرائع نے سعودی عرب کی جانب سے ان تخریب کاری کے حملوں کی شدید مذمت کی جس کا مملکت کے مختلف خطوں میں اہم تنصیبات اور شہری املاک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ذریعے نے کہا کہ سعودی عرب نے پہلے کہا تھا کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے تیل کی تنصیبات پر مسلسل تخریب کاری کے حملوں کی روشنی میں عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی کمی کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔
سعودی عرب اس بات کی اہمیت پر زور دیتا ہے کہ عالمی برادری ایران کے اس خطرے سے آگاہ ہے کہ ایران دہشت گرد حوثی ملیشیا کو بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور بغیر پائلٹ کے جدید طیارے فراہم کر رہا ہے، جس کے ذریعے وہ تیل اور گیس کی پیداوار کے مقامات کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان حملوں سے مملکت میں تیل کی پیداوار، پروسیسنگ اور ریفائننگ کے شعبوں پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اس سے مملکت کی پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈیوں کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑے گا۔اس سے بلاشبہ عالمی منڈیوں میں توانائی کی فراہمی کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہے۔
ذریعے نے زور دے کر کہا کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ دہشت گرد تخریب کاری کے حملے اور ان کے پیچھے صرف مملکت کو نشانہ نہیں بنانا ہے بلکہ ان کا مقصد دنیا میں توانائی کی سپلائی کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ اس طرح عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔



