بین الاقوامی خبریں

آزادیٔ اظہار کا مطلب مقتدر شخصیت کی توہین نہیں :نائیجیریا میں توہین رسالتؐ و مذہب کے مجرم کو 24 برس قید کی سزا

نام نہاد حقوقِ انسانی تنظیموں کے پیٹ میں شدید مروڑ ،حقوق انسانی کیخلاف قراردیا

لندن ، 6اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گزشتہ دو برسوں سے نظر بند ملحد و مرتد محمد مبارک بالا نے توہین رسالتؐ و مذہب کے 18 الزامات کا اعتراف کر کے عدلیہ بشمول جج کو حیرت میں ڈال دیا۔ نائیجریا میں سرگرم انسانی حقوق کے نام نہاد مغرب کے ٹکڑوں پر پلنے والے کارکنان نے اس سزا کو نائیجیریا میں انسانی حقوق کے لیے ایک افسوسناک دن قرار دیا ہے۔

نائیجیریا کی ایک عدالت نے ایک شخص مبارک بالا کو توہین مذہب کے جرم میں 24 برس قید کی سزا سنائی۔نائجیریا کی ریاست کانو میں جج فاروق لاوان نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ یہ عدالت محمد مبارک بالا کو 24 برس قید کی سزا سناتی ہے، مقدمے کی سماعت کے دوران قید میں انتظار کے طور پر جو وقت گزرا، اس کا بھی خیال رکھتے ہوئے، اسے بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

مبارک بالا پہلے ایک مسلمان تھا، تاہم بدقسمتی سے مرتدہوکر نائیجیریا کی ہیومنسٹ ایسوسی ایشن میں شامل ہوگیا، جس کے بعد ا سے اس تنظیم کا صدربھی منتخب کرلیاگیا۔ اپریل 2020 میں حکام نے سوشل میڈیا پر اس کی مبینہ اسلام مخالف اور توہین آمیز پوسٹس کی وجہ سے گرفتار کر لیا تھا۔مغربی افریقی ملک نائیجیریا کی شمالی ریاست کانو میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مبارک بالا نے فیس بک پوسٹس میں پیغمبر اسلام ؐاور مذہب اسلام، دونوں کی توہین کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی ان یہ پوسٹس امن عامہ کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتی تھیں۔

مبارک بالا ایک طویل عرصے سے اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتا رہا تھا ،تاہم منگل کے روز عدالت میں انہوں نے توہین مذہب کے 18 الزامات کا اعتراف کر کے اپنی قانونی ٹیم کو بھی حیران کر دیا۔اس موقع پر جج نے مقدمے کی سماعت روک دی تاکہ وکیل کو بالا سے بات کرنے کا موقع مل سکے اور اس بات کو بھی یقینی بنیا جا سکے کہ وہ کسی دباؤیا دھمکی کے زیر اثر اس طرح کے بیانات تو نہیں دے رہے ہیں۔ اور یہ کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اس کے مضمرات سے وہ اچھی طرح سے واقف ہیں۔

بالا نے عدالت کو بتایا کہ وہ عدالت سے رحم اور نرمی کی التجا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹس کا مقصد تشدد کو جنم دینا نہیں تھا، تاہم میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ تشدد پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ میں مستقبل میں اس کا خیال رکھوں گا۔

ان کے حامیوں نے نائیجیریا کے حکام پر ان کے ساتھ زیادتی کرنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے، ریاست کے مقاصد پر سوال اٹھائے تھے ۔واضح ہو کہ اس مقدمے کی سماعت ایک سیکولر عدالت میں ہوئی۔ اگر اس کیس کا مقدمہ نائجیریا کی کسی اسلامی شرعی عدالت میں چلتا تو انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button