بین الاقوامی خبریں

اقوام متحدہ روس کیخلاف کارروائی کرے یا خود کو تحلیل کردے: یوکرین صدر آبدیدہ

نیو یارک؍ ماسکو ؍ کیف ،07؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جذباتی خطاب میں کہا کہ اگر روس کے خلاف فوری کارروائی نہیں کرسکتے تو ادارہ ہی تحلیل کردینا چاہئے۔  وولودیمیر زیلنسکی نے کونسل سے ویڈیو لنک پر پرجوش خطاب کیا۔
  کیف کے قصبے بوچہ میں روسی افواج کے قتل عام اور اجتماعی قبر سے 450 نعشوں کی برآمدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر زیلنسکی آبدیدہ ہوگئے۔ اور مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ روس کے خلاف فوری کارروائی کرے یا پھر ادارہ ہی تحلیل ہوجانا چاہئے۔ صدر زیلنسکی نے بوچہ میں قتل عام کی فوٹیجز بھی دکھائیں۔ 
نعشیں گلیوں اور سڑکوں پر بکھری پڑی ہیں اور ایک اجتماعی قبر سے 450 لاشیں برآمد ہونے کے شواہد بھی دکھائے۔ بچوں کے سامنے ماؤں کے ساتھ  زیادتی کی گئی اور محفوظ مقام پرجانے والے شہریوں کی گاڑیوں کو ٹینک سے کچل دیا گیا، گھروں پر گرینیڈ پھینکے گئے اور  شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ صدر زیلنسکی نے روس کی سلامتی کونسل کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
زیلنسکی نے اقوام متحدہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف فوری طورپر کارروائی کرے یا پھر اپنے آپ کو مکمل طور پر تحلیل کردے۔ بچوں سمیت نعشوں کی ایک دردناک ویڈیو دکھائی اورکہا کہ یہ سب روسی مظالم کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے شہر بوچا میں روس کی فوجی کارروائیوں کو داعش جیسے دہشت گردوںکے تشدد سے تشبیہ دی۔ 
زیلنسکی نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کے پاس کوئی متبادل، کوئی اور آپشن نہیں تو پھر اس کے لیے اگلا آپشن یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکمل طورپر تحلیل کردے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کو پھر  جنگی مجرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جنگی جرائم کے حوالے سے عدالتی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔  پیوٹن کو وحشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا محاسبہ کیا جانا لازم ہے۔
امریکی انتظامیہ ماسکو پر مزید پابندیاں عائد کرے گی۔ جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائیر نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ جرمنی کو مشرقی ممالک کی طرف سے روسی جارحیت کے بارے میں کئے گئے پیشگی انتباہات پر دھیان دینا چاہئے تھا۔
انٹرنیشل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ایک ٹیم کو روس کے زیر قبضہ صوبے ڈونیٹسک کے قصبے مانہوش میں پولیس کی جانب سے حراست میں لینے  کے بعد رہا کر دیاگیا ہے۔ یوکرائن کے نائب وزیر دفاع نے کہا یوکرائن اور چرنیہیو کے علاقوں سے روسی افواج کا انخلا فوج کشی کے لیے دوبارہ صف بندی کرنا ہے۔
ھنا ملیار نے کہا کہ ان کا ملک تمام حالات کے لیے تیار ہے اور لڑتا رہے گا۔ انہوں مزید کہا کہ تمام خطوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ ہم فتح ضرور حاصل کریں گے لیکن راستہ طویل ہے اور اس کے لیے ہمیں کوشش اور صبر کی ضرورت ہے۔ یوکرائن میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزام کے بعد امریکا نے روس پر مزید پابندیاں عائد کر دیں، نئی پابندیوں میں روسی بنکوں اور اشرافیہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سرکاری عہدیدار نے مزید بتایا کہ امریکہ پیوٹن کی بالغ بیٹیوں، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی اہلیہ اور بیٹی اور روس کی سلامتی کونسل کے ارکان پر بھی پابندیاں عائد کر رہا ہے جبکہ امریکیوں پر روس میں سرمایہ کاری کرنے پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button