بین الاقوامی خبریںسرورق

مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان تازہ جھڑپیں

مقبوضہ بیت المقدس،22اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یروشلم میں واقع مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں 25 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعے کی صبح اسرائیلی پولیس مسجد کے احاطے میں داخل ہوئی اور وہاں موجود فلسطینی نوجوانوں پر آنسو گیس پھینکی اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

دو فلسطینیوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی پولیس کی جانب پتھراؤ کیا تھا جس کے بعد پولیس مسجد کے احاطے میں داخل ہوئی اور ربڑ کی گولیوں کے علاوہ اسٹن گرینیڈ بھی پھینکے۔اسرائیلی پولیس کے مطابق صبح کی نماز سے پہلے پتھراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا تاہم پولیس اہلکاروں نے نماز ختم ہونے کا انتظار کیا جس کے بعد وہ احاطے میں داخل ہوئے۔

چند بڑی عمر کے فلسطینیوں نے نوجوانوں کو پتھر پھینکنے سے روکا بھی لیکن درجنوں کی تعداد میں نقاب پوش نوجوانوں نے پولیس کی جانب پتھراؤ کیا اور آتش بازی کی۔صورتحال تب قابو میں آئی جب فلسطینیوں کا ایک گروہ مسجد میں داخل ہوا اور جمعے کی نماز سے پہلے صفائی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جس کے بعد پولیس مسجد کے گیٹ سے باہر نکل گئی۔

فلسطینی ریڈ کریسنٹ میڈیکل سروس کا کہنا ہے کہ کم از کم 31 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 14 کو ہسپتال پہنچایا گیا۔پولیس کے مطابق ایک خاتون پولیس افسر کے چہرے پر بھی پتھر لگا تھا جنہیں طبی امداد فراہم کی گئیمسجد الاقصیٰ مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام ہے اور جس مقام پر یہ تعمیر ہے وہ یہودیوں کے لیے بھی مقدس ترین مقام ہے جسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔

اردن اور فلسطین نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ زیادہ تعداد میں یہودیوں کو مسلمانوں کے مقدس مقام پر آنے کی اجازت دے کر معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ماہ رمضان کے آخری دس دنوں میں یہودیوں کی اس مقام پر آنے کی پابندی عائد ہے تاہم اس سال یہودیوں کا تہوار پاس اوور رمضان کے ساتھ موافق ہے جبکہ عیسائیوں کی چھٹیاں بھی اسی دوران ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تینوں مذاہب کے ماننے والوں کا آج کل یروشلم کے قدیمی علاقوں میں رَش لگا ہوا ہے۔


موبائل فون فلسطینیوں کا ’بندوق سے زیادہ طاقتور‘ ہتھیار کیسے بنا؟

مقبوضہ بیت المقدس،22اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال میں اسرائیل کو طویل عرصے تک فلسطینیوں پر برتری حاصل رہی ہے لیکن اب فلسطینی نوجوان اس ہتھیار کا ہوشیاری سے استعمال کرنے لگے ہیں۔ عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ’اشتعال انگیز مواد‘ پوسٹ کرنے کے دعوؤں پر فیس بک، واٹس ایپ، ٹوئٹر اور انسٹاگرام کے سینکڑوں فلسطینی اکاؤنٹس بند کیے جا چکے ہیں۔لیکن فلسطینی ان پابندیوں کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔

ان کی بڑی تعداد اب شارٹ ویڈیوز کی مقبول ترین چینی اپلی کیشن ٹِک ٹاک پر منتقل ہو گئی جو اسرائیل کے غصے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ٹک ٹاک نے فلسطینیوں کے متعدد اکاؤنٹس کی بند کرنے کی اسرائیلی درخواستوں کو مسترد کیا جن پر اسرائیل نے اشتعال انگیز مواد‘ پوسٹ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

حالانکہ فیس بک ان الزامات کی بنیاد پر بہت سارے اکاؤنٹس کو بند کر چکی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم میں پیدا ہونے والی صورتحال میں ٹک ٹاک ایک مؤثر ہتھیار کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس اپلی کیشن پر ’فری فلسطین‘ مسلسل ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔ فلسطینیوں کے ہاتھوں میں موجود موبائل کیمرے دنیا کو واقعات کی تفصیل اور تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کا مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔

عرب نیوز کو اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں نے بتایا کہ ٹک ٹاک نے مئی 2021 میں یروشلم کے قریب واقع شیخ جراح میں پیش آنے والے واقعات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا، جن کے بعد 11 دن تک جنگ جاری رہی۔نوجوان فلسطینیوں کی جانب سے ٹک ٹاک پر چلائی گئی ویڈیوز نے دوسروں کو بھی اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپوں میں شامل ہونے پر اکسایا۔

عالمی سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق جنوری 2020 میں فلسطین میں 30 لاکھ 37 ہزار انٹرنیٹ صارفین تھے جو کہ فلسطین کی مجموعی آبادی کا 70 فیصد بنتے ہیں۔


بیت المقدس میں کشیدگی، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب

استنبول ،22اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)انڈونیشیا کی درخواست پراسلامی تعاون تنظیم ’اوآئی سی‘ کا ہنگامی اجلاس آئندہ سوموار کو سعودی عرب میں طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں موجودہ کشیدگی صورت حال پرغور کیا جائے گا۔جمعرات کو او آئی سی نیوز ایجنسیوں کے فیڈریشن نے کہا کہ اجلاس مسجد الاقصی پر روزمرہ اسرائیلی حملوں کے دوران اس کے دروازوں کو بند کر کے انتہاپسندوں اور قابض اسرائیلی کی افواج اور اس کے اندر عبادت کرنے والوں کے حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اوآ ئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے کئی فعال بین الاقوامی جماعتوں کے ساتھ رابطے اور مشاورت کی۔ او آئی سی نے القدس میں اسرائیلی ریاستی تشدد کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ القدس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظرعالمی برادری ، مسلم امہ اور عرب ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے حوالے سے اسرائیل کو پابند بنانا ہوگا۔

خیال رہے کہ حالیہ ایام میں بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اوریہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی اور فلسطینی شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button