نیویارک، 26 جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کی سپریم کورٹ نے جمعے کو ایک فیصلہ دیا تھا کہ اسقاطِ حمل کا کوئی آئینی حق نہیں ہے۔ اس نے پورے امریکہ میں جذبات کا سونامی پیدا کر دیا ہے۔ قدامت پسندوں نے ایک طویل عرصے سے طے شدہ مقصد کے حصول کا جشن منایا، جب کہ اسقاطِ حمل کے حقوق کے حامیوں نے متنبہ کیا کہ امریکہ کی لاکھوں خواتین کو اب صحت کی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے پر عدالت کے باہر موجود بعض افراد نے خوشی کا اظہار کیا، نعرے لگائے جب کہ بعض نا امید بھی ہوئے۔
امریکہ میں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کئی ریاستوں میں اسقاطِ حمل کا حق ختم یا محدود کر دیا جائے گا۔ ملک کی اعلیٰ عدالت نے 1973 میں روے بنام ویڈ کیس کے فیصلے کے ذریعے تقریباً 50 سال تک یہ حق محفوظ رکھا تھا۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 50 ریاستوں میں سے لگ بھگ نصف میں اس حق کو ختم یا محدود کیا جا سکتا ہے۔خواتین کی صحت بارے میں تحقیق کرنے والے ادارے ’گٹماچر انسٹیٹیوٹ‘ کے مطابق امریکہ کی 26 ریاستیں ممکنہ طور پر اسقاطِ حمل پر پابندی لگا سکتی ہیں۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی بعض ریاستوں میں اسقاطِ حمل پر پابندی کے اقدامات کیے جائیں گے اور اسقاطِ حمل کرنے والے شعبہ طب کے پیشہ ور افراد کے خلاف ایسا کرنے پر مجرمانہ قانونی چارہ جوئی کی جائے گی جب کہ اسقاطِ حمل کرانے والی خواتین کے خلاف فوجداری مقدمہ کا اقدام بھی ہو سکتا ہے۔
قانونی امور سے متعلق ادارے ’نیشنل ویمنز لا سینٹر‘ میں اسقاطِ حمل تک رسائی کی ڈائریکٹر ہیدر شماکر کا گفتگو میں کہنا ہے کہ یہ واقعی ایک ظلم ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین ہر بہتر صحت کے لیے اسقاطِ حمل کی تلاش میں ہیں۔ انہیں دیکھ بھال کے لیے خاندان۔ دوستوں اور قابل اعتماد شراکت داروں کی مدد کی ضرورت ہے اور عدالت کے فیصلے سے بنیادی طور پر ان سب کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کلینک بند ہونے جا رہے ہیں۔ جو لوگ اسقاطِ حمل کرانے میں مدد کرتے ہیں، انہیں قانونی چارہ جوئی کی دھمکیاں دی جا سکتی ہیں۔
اس کے برعکس ’امریکنز یونائیٹڈ فار لائف‘ کے جنرل کونسلر اسٹیون ایڈن نے بتایا کہ جب فیصلے کا اعلان کیا گیا تو انہیں خوشگوار حیرت ہوئی اور اسقاطِ حمل کے حقوق کے حامیوں سے کہا کہ وہ اس فیصلے کو دل و جان قبول کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں لوگ پہچانیں کہ اسقاطِ حمل اصل میں کیا ہے اور یہ خواتین اور ان کے رحم میں موجود زندگی کے لیے کیا کرتا ہے؟ امریکہ رحم میں بچوں کو مارنے کے حق پر منقسم نہیں ہوگا۔
امریکن یونیورسٹی کے ماہر عمرانیات پروفیسر ٹریسی اے ویٹز نے گفتگو میں کہا کہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ وہ خواتین جو اسقاطِ حمل چاہتی ہیں، انہیں آئندہ پانچ برس میں بڑے پیمانے پر منفی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ویٹز نے کہا کہ یہ مسائل غریب امریکیوں کو سب سے زیادہ متاثر کریں گے جب کہ امیر امریکی اسقاطِ حمل کی خدمات تک رسائی کے لیے سفر کر سکیں گے۔واضح رہے کہ امریکہ میں کئی ریاستوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہاں خواتین کو اسقاطِ حمل کے حقوق حاصل ہوں گے۔مبصرین کے مطابق امریکی عوام اس فیصلے کے بارے میں واضح طور دو متضاد رائے رکھتی ہے۔ ایک تو وہ ہیں جنہوں نے اس فیصلے کا جشن منایا۔ کچھ مخالفت میں اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور بیانات دے رہے ہیں۔
امریکہ میں اسقاطِ حمل کے خاتمے کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’سوسن بی انتھونی پرو-لائف امریکہ‘ کی صدر مارجوری ڈینن فیلسر کہتی ہیں کہ آئندہ چند برس میں کئی ریاستوں میں اسقاطِ حمل کی ہولناکی کو محدود کرکے لاکھوں جانیں بچانے کا موقع ہو گا۔ڈینن فیلسر نے حاملہ خواتین اور ان کے خاندانوں کے لیے ’زندگی کے حامی حفاظتی حصار‘ کو وسعت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔دوسری طرف سیاسی محاذ پر امریکہ کی دونوں بڑی جماعتیں اس کے حق یا مخالفت میں کھل کر بیان دے رہی ہیں۔



