بین الاقوامی خبریںسرورق

غلافِ کعبہ آئندہ ہفتے تبدیل کیا جائے گا: سعودی حکام

ریاض، 27 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی حکام نے کہا ہے مکہ میں المسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا غلاف آئندہ ہفتے کو تبدیل کیا جائے گا۔سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عمومی صدارت برائے انتظامی امور حرمین شریفین نے پیر کو بتایا ہے کہ ہفتے کو کسوۃ الکعبہ یعنی غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے عمل میں 166 تکنیکی ماہرین اور کاریگروں کی ٹیم حصہ لے گی۔پرانے غلافِ کعبہ کی نئے غلاف سے تبدیلی المسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے امور کے صدر جنرل شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز آلِ سعود کی نگرانی میں عمل میں لائی جائے گی۔

خیال رہے کہ سیاہ رنگ کے اس غلافِ کعبہ پر قرآنی آیات تحریر ہوتی ہیں جسے ہر سال اسلامی سال کے مہینے ذی الحج کی نو تاریخ کو تبدیل کیا جاتا ہے البتہ رواں سال سعودی حکام نے اس کی تبدیلی یکم محرم الحرام یعنی نئے اسلامی سال 1444ھ کے آغاز پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس سلسلے میں نیا غلافِ کعبہ عید الاضحی کے روز کعبے کے کلید بردار کے حوالے کر دیا گیا تھا۔المسجد الحرام کے امور پر مامور انڈر سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سعد بن محمد آل محمد کا کہنا تھا کہ غلافِ کعبہ کے لیے شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں لگ بھگ 200 کاریگر اور منتظم کام کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کمپلیکس میں لانڈری اور آٹومیٹک ویونگ ڈپارٹمنٹ، مینوئل ویونگ ڈپارٹمنٹ، پرنٹنگ ڈپارٹمنٹ، بیلٹ ڈپارٹمنٹ اور گولڈ تھریڈ ڈپارٹمنٹ، کسوہ سوئنگ اینڈ اسمبلنگ سیکشن شامل ہیں جس میں لمبائی کے حساب سے دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹرائزڈ سلائی مشین بھی شامل ہے اور اس کی لمبائی 16 میٹر ہے۔

ڈاکٹر سعد کے مطابق غلافِ کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خالص ریشم کا استعمال کیا جاتا ہے جسے کمپلیکس کے اندر سیاہ رنگ سے رنگا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 120 کلو گرام سونے اور 100 کلو گرام چاندی کے دھاگے بھی غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔عباسی عہد میں ایک سال سفید اور ایک سال سرخ غلاف بنایا جاتا تھا۔ سلجوق سلاطین نے اسے زرد غلاف دیا۔ عباسی حکمران الناصر نے پہلے سبز اور بعد میں سیاہ غلاف بنوایا اور اس کے بعد سے سیاہ غلاف کی روایت برقرار ہے۔


سعودی عرب میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ڈریس کوڈ پرعمل درآمد میں سختی

ریاض، 27 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب میں پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ٹیکسی ڈرائیوروں کی طرف سے مقررہ یونیفارم کی پابندی یقینی بنانے کے لیے ٹیکسی کی سرگرمیوں کی نگرانی سخت کردی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹیکسی ڈرائیوروں کی چھان بین کے چھ ہزار واقعات میں سے 394 ٹیکسی ڈرائیوروں کو یونیفام کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانے کیے گئے ہیں۔اتھارٹی نے 12 جولائی سے ٹرانسپورٹ ایپس، عوامی کرایہ، ہوائی اڈے کا کرایہ اور خصوصی کرایہ کے ڈرائیوروں کے لیے ڈریس کوڈ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے مملکت میں ٹیکسی کاروں اور ڈرائیوروں کے لیے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد اس پرعمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔

کرایہ بروکر، ثالث بروکر اور سمت کی سرگرمیوں کو منظم کرنے والے ضابطے کی دفعات کے مطابق ڈرائیوروں کو عمل درآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔اتھارٹی نے ٹیکسی ڈرائیوروں کو شناختی کارڈ آویزاں رکھنے کے علاوہ قومی لباس یا سرمئی رنگ کی لمبی بازو والی قمیص اور کالی پینٹ اور بیلٹ پہننے کا بھی پابند کیا۔ ڈرائیور ضرورت کے مطابق جیکٹ یا کوٹ بھی پہن سکتا ہے۔اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام لائسنس یافتہ کمپنیوں پر یہ ضابطہ اخلاق لاگو ہوگا۔پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے شہریوں سے ٹرانسپورٹ سے متعلق شکایات یا اطلاع ویب سائٹ (tga.gov.sa) کے ذریعے جمع کرانے یا یونیفائیڈ نمبر 19929 پر کال کی تجویز پیش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button