بین الاقوامی خبریںسرورق

کیا الظواہری کے اہل خانہ ہی امریکی انٹیلی جنس کی رسائی کا ذریعہ بنے

نیویارک، 4اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حال ہی میں کابل میں امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے القاعدہ تنظیم کے سربراہ ایم الظواہری کے خلاف آپریشن کے بارے میں تازہ معلومات سامنے آئی ہیں۔برطانوی اخبار’ٹائمز‘ میں شائع ہونے والی تین ایڈیٹروں کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کو معلوم تھا کہ ایمن الظواہری پاکستان کے شہر کراچی میں مقیم ہیں۔ اس کے بعد امریکی ایجنٹوں کو یہ خبربھی مل گئی کہ الظواہری کا خاندان کابل پہنچ گیا ہے اور انہوں نے کابل میں شیرپور کے مقام پر تین منزلہ کوٹھی میں رہائش اختیار کی ہے۔ پھر پتہ چلا کہ الظواہری کے ارد گرد موجود سپورٹ نیٹ ورک بھی افغان دارالحکومت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

برطانوی اخبار کی یہ رپورٹ سینر امریکی حکام کی مدد سے تیار کی گئی ہے مگر معلومات دینے والے اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔رپورٹ میں ایک سینر اہلکار نے کہا کہ امریکی حکومت الظواہری کی حمایت کرنے والے نیٹ ورک کے وجود کے بارے میں برسوں سے جانتی تھی اور اس سال ہمیں پتہ چلا کہ اس کا خاندان، اس کی بیوی، بیٹی اور بچے کابل میں ایک محفوظ گھر میں منتقل ہو گئے ہیں۔ جہاں انہیں روایتی انسداد جاسوسی کے طریقے بھی سکھائے گئے۔ وہ ہمیشہ تین منزلہ عمارت کے اندر رہتے تھے۔

جس میں صرف بھروسہ مند لوگوں کو جانے کی اجازت ہوتی تھی۔ یاد رہے کہ یہی طریقہ القاعدہ کے بانی سربراہ مقتول اسامہ بن لادن نے ایبٹ آباد میں اپنے قیام کے دوران اپنایا تھا۔ مگر امریکی جاسوس انہیں تلاش کرتے ان تک پہنچ گئے تھے اور سنہ 2011 میں انہیں ہلاک کردیا گیا تھا۔الظواہری کی اہلیہ، بیٹی اور پوتے پوتیوں کی آمد کے ساتھ، امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی’سی آئی اے‘ کو یقین تھا کہ آخر کار الظواہری خود ان کے سامنے آہی جائے گا۔ ہم نے اس کی یقینی موجودگی کے لیے کام کیا اور آخر کار ہمیں معلوم ہوگیا کہ الظواہری کابل میں ہیں۔رپورٹ میں اہم ترین معلومات کا خلاصہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب اپریل کے اوائل میں سینئر انٹیلی جنس حکام کو الظواہری کی اطلاع ملی تو انہوں نے فوری طور پر صدر بائیڈن کو یہ خبر پہنچا دی تاکہ آپریشن کی منصوبہ بندی شروع کی جائے۔

آپریشن میں الظواہری کو جان سے مارنا ہی تھی۔71 سالہ الظواہری کبھی گھر سے باہر نہیں نکلے۔ ان کی بعد کابل میں موجودگی کی حتمی تصدیق اس وقت ہوئی جب وہ بالکونی میں سب کی نظروں میں نمودار ہوئے۔ چنانچہ ایک امریکی اہلکار نے کہاکہ ہم نے الظواہری کو مختلف مواقع پر اور طویل دیر تک بالکونی میں دیکھا۔ چنانچہ اس کا روزانہ سیٹ لائٹ امیجز کے ذریعے طرز زندگی کو ہفتوں تک مانیٹر کیا گیا۔ ’سی آئی اے‘ کو گھر کا ایک پیمانے کا ماڈل بنانے کے لیے وقت دیا گیا تھا۔اسے صدر بائیڈن کو پیش کرنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا ان کے خاندان کے افراد یا قریبی شہریوں کو مارے بغیر اسے پورچ پر نشانہ بنانا محفوظ ہے۔

25 جولائی کو اپنی ٹیم کو ایک آخری بار بلانے اور اپنے اعلیٰ مشیروں سے ان کے خیالات پوچھنے کے بعد مسٹر بائیڈن نے اس حملے کی اجازت دے دی۔اگلے چند ہفتوں کے دوران، حکام نے وائٹ ہاؤس کے اہم کمرے میں ملاقات کی یہ وائٹ ہاؤس کے نیچے قائم کیا گیا ایک بنکر نما کمانڈ سینٹر ہے جہاں صدر اندرون اور بیرون ملک بحرانوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔حکام نے انتہائی محتاط انداز میں اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی اور صدر کی جانب سے پوچھے جانے والے کسی بھی ممکنہ سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔

دریں اثنا، وکلا کی ایک چھوٹی ٹیم اس حملے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئی اور بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ القاعدہ میں الظواہری کے قائدانہ کردار اور القاعدہ کے حملوں کے لیے ان کی آپریشنل حمایت کی بنیاد پر ایک جائز ہدف تھا۔انٹیلی جنس حکام کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجکر 18 منٹ پر ایک ڈرون سے داغے گئے دو ہیل فائر میزائل الظواہری کے مکان کی بالکونی سے ٹکرائے جس کے نتیجے میں القاعدہ کے سربراہ ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے دوسرے ارکان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔حملے کے بعد مکان کی کھڑکیاں اڑ گئیں مگر حیرت انگیز طور پر کوئی اور نقصان نظر نہیں آیا۔اس حملے کم معروف ہیل فائر میزائل استعمال کیا گیا تھا جس میں دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا۔ میزائل کی یہ قسم AGM-114R9X کہلاتی ہے اور بارود کی جگہ اس میں چھ بلیڈ لگے ہوتے ہیں جو نشانے پر پہنچتے وقت میزائل کے اطراف سے نکل آتے ہیں۔


امریکہ کو کیسے جواب دیا جائے، ڈرون حملے کے بعد طالبان کی مشاورت

کابل میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد طالبان رہنما سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ امریکہ کو اس کا جواب کیسے دیا جائے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بدھ کو بھی ایک اہم اجلاس کابل میں ہوا۔خیال رہے اتوار کو کابل پر ڈرون حملے کے بعد امریکی حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی رہائش گاہ کی بالکونی میں کھڑے تھے۔اس واقعے کو ایک دہائی قبل القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد طالبان جنگجوؤں کے لیے اہم دھچکا اور امریکہ کی اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ افغانستان میں القاعدہ کے مزید ارکان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور یقینی بنایا جائے گا امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے لیے اس ملک کو پھر سے استعمال نہ کیا جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا ’ہم ہوشیار رہیں گے اور جہاں ضروری ہو گا کارروائی کریں گے، جیسا کہ ہم نیرواں ہفتے کیا ہے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ ’امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اب بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے گی، تاہم صرف اسی صورت میں جب ان سے امریکی مفادات کو تقویت ملے گی۔

دوسری جانب اسلامک گروپ کے ارکان جو سالہا سال سے القاعدہ کے اتحادی ہیں، کی جانب سے اتوار کو ڈرون حملے کی تصدیق کی گئی تھی تاہم ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ گھر خالی تھا۔طالبان کے ایک اہم عہدیدار نے روئٹرز کو بتایاکہ حکام کے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے ہیں جن میں مشاورت کی گئی کہ آیا امریکہ کو حملے کا جواب دینا چاہیے، اور اگر طے پاتا ہے، تو اس کا طریقہ کار کیا ہو گا۔طالبان رکن نے اس امر کی تصدیق نہیں کی کہ جس گھر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا اس میں ایمن الظواہری موجود تھے۔

ایک سال قبل امریکی حمایت یافتہ حکومت کو شکست دے کر اقتدار میں آنے والے گروپ کا حملے پر ردعمل اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے کیونکہ دوسری جانب یہ اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کرنے کا بھی خواہاں ہے۔فنڈز کی بحالی کے حوالے سے امریکی عہدیدار کا کہنا تھاکہ امریکہ طالبان پر دباؤ ڈالتا رہے گا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم پر سے پابندی اٹھائیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے معیشت بہتر ہو۔ان کا اشارہ افغان مرکزی بینک کی طرف تھا۔اہلکار کے مطابق واشنگٹن انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھے گا اور طالبان پر زور دیتا رہے گا کہ وہ 2020 میں اغوا کیے گئے مارک فریچس نامی امریکی شہری کو رہا کریں، اسلامک سٹیٹ کی علاقائی برانچ کو ختم کریں اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کو روکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button