کیف، 14اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرینی حکام نے کہا کہ ملک کے دارالحکومت کو روسی افواج نے ایرانی ساختہ ڈرونز سے نشانہ بنایا جبکہ یوکرین کی فوج نے کہا کہ روسی میزائلوں نے گزشتہ روز ملک بھر میں چالیس مختلف مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق روسی میزائل حملوں میں کیف کے ارد گرد اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔میکولائیو نامی شہر کے میئر اولیکسینڈر سینکووچ نے جنوبی یوکرین میں واقع اس شہر پر جمعرات کو بھی رات بھر گولہ باری ہونے کی اطلاع دی جس میں اپارٹمنٹس کی ایک پانچ منزلہ عمارت تباہ ہو گئی۔روسی فضائی حملے اس وقت ہوئے جب یوکرین کے شراکت دار ملک کو اضافی فضائی دفاع فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
برطانیہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ یوکرین کوایسے راکٹ بھیجے گا جو کروز میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ادھر نیٹو کے وزرائے دفاع برسلز میں یوکرین کی فوج کی حمایت پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بدھ کو کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ریزروعملے سے تین لاکھ کی بھرتی کے ذریعے غیر تربیت یافتہ روسی شہریوں کو فرنٹ لائنز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین نے دنیا کو دکھایا ہے کہ وہ آزاد لوگوں کی فوجی طاقت ہیجو اپنی جمہوریت اور خودمختاری کے لیے لڑ رہے ہیں۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے روس پر حالیہ حملوں کے ذریعے جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو نے شہری انفراسٹرکچر، بجلی کی پیداوار اور ڈیموں پر اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ملی نے کہا کہ روس نے جان بوجھ کر شہریوں کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے سویلین انفراسٹرکچر پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے یوکرین کے بوڑھوں۔خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ عام شہریوں پر اندھا دھند اور دانستہ اہداف کے طور پر حملے بین الاقوامی قوانین میں ایک جنگی جرم ہے۔
روس کے صدر پوٹن نے کہا ہے کہ دارالحکومت کیف سمیت یوکرین بھر کے شہروں پر کیے گئے روسی میزائل حملے گزشتہ ہفتے کے روز ہونے والے ٹرک بم حملے کا براہ راست ردعمل تھا جس کے نتیجے میں روس کو جزیرہ نما کرایمیا سے ملانے والے اسٹریٹجک پل کا ایک حصہ تباہ ہوا۔ماسکو کی ایف ایس بی سیکیورٹی سروس نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے اس واقعے سے منسلک پانچ روسیوں سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تین یوکرین اور آرمینیائی باشندوں نے حملے میں مدد کی۔یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ حملہ انہوں نے کیا ہے لیکن سرکاری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یوکرین کی وزارتِ داخلہ نے روسی تحقیقات کو بے معنی قرار دیا۔
یوکرینی افواج کی پیش قدمی، متاثرہ شہریوں کو روس منتقل ہونے کی ہدایت
کیف، 14اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جنوبی خطے خیرسن میں یوکرینی افواج کی پیش قدمی کے بعد روس نواز حکام شہریوں کو قریبی روسی شہروں میں منتقل ہونے کی ہدایت کر رہے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خیرسن کے روس نواز ایڈمنسٹریٹر ولادیمیر سالدو کا کہنا ہے کہ میزائل کے حملوں سے بچنے کے لیے انہوں نے خیرسن کے شہریوں کو روس کے علاقوں میں منتقل ہونے کی تجویز دی ہے۔خیرسن ان چار یوکرینی صوبوں میں سے ایک ہے جس کا الحاق روس سے ہو گیا ہے۔ یہ سٹریٹیجک لحاظ سے سب سے اہم علاقہ ہے۔
روس نے کہا تھا کہ وہ خیرسن سے شہریوں کے انخلا میں مدد فراہم کرے گا۔روس کے وزیراعظم مرات خوسنولین نے کہا تھا کہ حکومت نے خیرسن کے شہریوں کے نکلنے کے لیے بندوبست کیا ہے۔جو شہری خیرسن سے روانہ ہوں گے وہ کریمیا جائیں گے۔ کریمیا بھی یوکرین کا حصہ تھا جس کا روس سے 2014 میں ہوا تھا۔روس نے خیرسن کے دفاع کے لیے بہترین فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔ یوکرین نے اگست میں روس کے خلاف جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ہفتے سے کم عرصے میں 400 مربع کلومیٹر کے علاقے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
اکتوبر کے آغاز سے یوکرین کی فوج نے جنوبی خطے میں روس کے خلاف پیش قدمی کی ہے۔جمعرات کو کوپیانسک میں روس نے تین میزائل داغے جس کی وجہ سے رہائشی عمارتوں، دکانوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچا۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زینلنسکی نے کہا ہے کہ مشرقی ڈونیسک میں شراب اور نمک پیدا کرنے والے قصبے بخموت میں شدید لڑائی جا رہی ہے۔بخموت کو بھی روس نے اپنے ساتھ ضم کرنے کی کوشش کی تھی۔
یوکرین میں انٹرنیٹ کے لیے مزید مالی اعانت نہیں کر سکتے: اسپیس ایکس
لندن ، 14اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گزشتہ موسم بہار میں یوکرین پہنچنے کے بعد سے امریکی ارب پتی ایلون کے اسپیس ایکس کے ذریعے بنائے گئے سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سٹیشن یوکرائنی فوج کے لیے مواصلات کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں، جس میں سیل فون اور انٹرنیٹ نیٹ ورک روس کے ساتھ لڑائیوں سے تباہ ہو گئے ہیں۔اب تک تقریباً20 ہزار سٹار لنک خلائی یونٹ یوکرین کو عطیہ کیے جا چکے ہیںںمسک نے جمعہ کو ٹویٹ کیا کہ اس آپریشن پرسپیس ایکس کی لاگت 80 ملین ڈالر آئی ہے۔ یہ لاگت سال کے آخر میں 100 ملین ڈالر سے بڑھ جائے گی۔تاہم یہ خیراتی عطیات شاید ختم ہونے والے ہیں کیونکہ اسپیس ایکس نے پنٹاگون کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ یوکرین میں فنڈنگ سروس بند کر سکتا ہے، جب تک کہ امریکی فوج ماہانہ لاکھوں ڈالر ادا نہ کرے۔
سی این این کو حاصل ہونے والی گزشتہ ماہ کی دستاویز کے معلوم ہوتا ہے کہ اسپیس ایکس نے پنٹاگون کو خط لکھا تھا کہ وہ اب اسٹارلنک کے لئے مزید فنڈز جاری نہیں رکھ سکتا۔خط میں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ پینٹاگون یوکرین کی حکومت کے سٹار لنک کے استعمال کے لیے فنڈ فراہم کرے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ باقی سال کے لئے 120 ملین ڈالر سے زیادہ کی لاگت آئے گی اور اگلے 12 ماہ کی لاگت 400 ملین ڈالر ہے۔اسپیس ایکس کے ڈائریکٹر سیلز نے ستمبر میں پنٹاگون کو لکھا تھا کہ ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ یوکرین کو مزید اسٹیشن عطیہ کر سکیں۔ یا غیر معینہ مدت کے لیے موجودہ اسٹیشنوں کو فنڈ دیتے رہیں۔
پنٹاگون کو بھیجی گئی اور سی این این کی طرف سے دیکھی جانے والی دستاویزات میں سے گزشتہ جولائی میں یوکرین کی فوج کے سربراہ جنرل ویلری زلوزنی کی طرف سے تقریباً 8,000 اضافی سٹار لنک اسٹیشنوں کے لیے مسک سے کی گئی ایک غیر رپورٹ شدہ براہ راست درخواست تھی۔
روس کے یوکرینی علاقوں کو ضم کرنے پر جنرل اسمبلی میں مذمتی قراداد منظور
نیویارک ، 14اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ماسکو کی طرف سے حال ہی میں یوکرین کیبعض علاقوں کا روس کے ساتھ الحاق کرنے کی اقدام مذمت کی قرارادا د کو بھاری اکثریت سے منطور کر لیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بدھ کو پیش ہونے والے قرار داد کی 143 ممالک نے حمایت ، پانچ نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ پاکستان ،بھارت ، جنوبی افریقہ اور چین ان 35 ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔قرار داد میں روس کی طرف سے یوکرین کے بعض علاقوں میں روس سے الحاق کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کی مذمت کی ہے جو قرار داد کے مطابق یوکرین کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ علاقوں کے اندر کیا گیا ہے۔
قراراد میں اقوا م متحدہ اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ روس کی کی طرف سے کیے گئے عمل کو تسلیم نہ کریں اور دوسری جانب روس پر زور دیا گیا ہے وہ اپنے اس اقدام کو واپس لے۔رواں سال فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کی امریکہ اور اس کی اتحادی ممالک کی طرف سے مذمت کرتے ہوئے روس پر نہ صرف مختلف نوعیت کے تعزیرات عائد کی گئی ہیں بلکہ مغربی ممالک نے عالمی برداری پر زور دیا جار ہا ہے کہ وہ روس کی اس اقدام کی مذمت کریں۔اگرچہ پاکستان اور بھارت سمیت کئی ایک ممالک نے یوکرین روس تنازع پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اس معاملے کو بات چیت اور پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیتے آرہے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت کی طرف سے اس معاملے پر اب تک غیر جانبدار موقف اختیار کیا جارہا ہے۔
پاکستان اور بھارت سمیت 35 ممالک نے اقوام متحدہ میں منظورہونے والی قرارداد کی ووٹنگ میں ایک ایسے وقت غیر حاضر رہے ہیں جب امریکہ اور مغربی ممالک کی کوشش تھی کہ یوکرین کے معاملے پر زیادہ سے زیادہ ممالک روس کے برخلاف ایک واضح موقف اختیار کریں۔مذمتی قراردادا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش ہونے سے پہلے امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ دنیا کے وہ ممالک جو اقوام متحدہ کی چارٹر کے اصولوں کو مانتے ہیں ان کے لیے غیر جانبدار رہنا کوئی چیز نہیں ہے۔



