ریاض، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کنگ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر أثرا نے ہجرت نمائش کے دوران پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تبرکات کی کاپی کو لوگوں کی زیارت کے لئے پیش کردیا۔1287 میں وفات پانے والے مراکش کے محدث ابن عساکر کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب بابرکت اشیا کی کاپیاں اندلس کے کاریگروں نے 13 ویں صدی میں تیار کی تھیں۔یہ نسخے عام طور پر اسلامی دارالحکومتوں میں علمائے حدیث میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ان علما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور احادیث کو محفوظ کرنے اور منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
اس نمائش کا افتتاح سعودی مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے نئے ہجری سال کے آغاز پر کیا تھا۔ نمائش کے افتتاح کے موقع پر سعودی اعلی حکام، اسلامی فن و تاریخ کے محققین، دانشوروں اور دنیا بھر سے آئے دیگر معزز مہمان موجود تھے۔یاد رہے یہ نمائش نو ماہ تک جاری رہے گی اور پھر اس کا انعقاد ریاض، جدہ اور مدینہ منورہ میں کیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ نمائش دنیا بھر کے کئی شہروں میں جائے گی۔ اس نمائش کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کے سفر ہجرت پر روشنی ڈالنا ہے۔
#الامارات71 | 🎥 | 🇸🇦
عرض "نسخة” طبق الأصل من حذاء النبي محمد ﷺ، في القرن الـ13 الميلادي، صنعه حرفيون من الأندلس، وفق رواية عالم الحديث ابن عساكر، وذلك في #معرض_الهجرة_النبوية في مركز "إثراء” بمدينة الظهران شرقي السعودية .. #شاهد الفيديو 🎥 pic.twitter.com/UnrHqAtcy4
— الإمارات71 (@UAE71news) October 15, 2022
دریں اثنا شاہ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر اثرا کے ڈائریکٹر عبداللہ الراشد نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر ہجرت نہ صرف ایک نمائش ہے؛ بلکہ یہ ایک مربوط کوالٹی پراجیکٹ ہے، جسے عصری انداز میں ایک غیر معمولی اور بے مثال اسلوب میں ایک سفری عالمی نمائش کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔اس میں نوادرات اورایسی اشیا شامل کی گئی ہیں جن کا تعلق ھجرت نبوی ہے اور انہیں ماہرین کی زیرنگرانی تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اثرا سینٹر تین سال سے نمائش کی تیاری اور ڈیزائننگ پر کام کر رہا تھا۔
اس کی تیاری میں 70 سے زائد محققین اور آرٹسٹوں نے حصہ لیا اور انتہائی محنت سے اشیا ڈیزائن کیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ نمائش میں فن پاروں کا ایک گروپ دکھایا گیا ہے، جس میں ٹیکسٹائل، مخطوطات اور نوادرات کا ذخیرہ بھی شامل ہے۔ یہ نوادرات اسلامی تہذیب کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔
سعودی شہر تبوک میں 3.38 شدت کا زلزلہ
ریاض، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب میں تبوک میں شدید زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ سعودی عرب کے جیولوجیکل سروے نے اشارہ کیا ہے کہ اتوار کو شمالی سعودی عرب کے شہر تبوک میں 3.38 کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔سعودی جیولوجیکل سروے کے سرکاری ترجمان طارق ابا الخیل نے بتایا کہ 16 اکتوبر 2022 اتوار کی شام 10 بج کر 46 منٹ پر زلزلہ آیا۔ ریکٹر سکیل پر 3.38 کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلہ کا مرکز تبوک سے 8 کلومیٹر شمال مغرب میں 19.37 کلومیٹر کی گہرائی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ زلزلہ خلیج عقبہ اور شمالی بحیرہ احمر سے آنے والے ٹیکٹونک دباؤ کی وجہ سے آیا تھا جس کی وجہ سے خطے میں موجود کچھ پرانے فالٹس دوبارہ فعال ہو گئے تھے۔انہوں نے شہریوں اور مکینوں کو یقین دلایا کہ زلزلہ کی شدت کے لحاظ سے کمزور سمجھا جاتا ہے اور یہ خطرناک نہیں ہے۔ زلزلہ کے بعد کوئی آفٹر شاکس ریکارڈ نہیں کئے گئے۔
سعودی عرب امن کا کل بھی ثالث تھا اور اب بھی ہے: شاہ سلمان

ریاض، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی ٔعہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں شوریٰ کونسل کے آٹھویں اجلاس کے تیسرے سال کے کام کا ویڈیو لنک کے ذریعے افتتاح کردیا۔اس موقع پر شاہ سلمان نے زور دے کر کہا سعودی عرب امن کا ثالث تھا اور اب بھی ہے۔ سعودی عرب نے امن، استحکام اور انصاف کے حصول کی بنیاد رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک جامع ترقیاتی تحریک کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
اس تحریک کا مقصد نئے شعبوں کی ترقی اور ساتھ ساتھ مقامی مواد کی حمایت، کاروباری ماحول کو آسان بنانا اور شہریوں کو بااختیار بنانا ہے۔سعودی عرب ماحولیاتی چیلنجوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنے کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مملکت ضرورت مند اور آفات اور بحران سے متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔
مملکت نے خوراک اور زرعی تحفظ کے شعبہ میں لگ بھگ 2.8 بلین ریال کی امداد فراہم کی ہے۔شوریٰ کونسل کے سامنے اپنی تقریر میں علاقائی اور بین الاقوامی امور کے متعلق بات کرتے ہوئے خادم حرمین شریفین نے کہا سعودی عرب پوری دنیا کے لیے امن کا ثالث اور انسانیت کا مینار تھا اور اب بھی ہے۔سعودی بادشاہ نے زور دے کر کہا کہ مملکت تیل کی منڈیوں کی مدد، استحکام اور توازن کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی امن ہتھیاروں کی دوڑ یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
سعودی فرمانروا نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنی جوہری ذمہ داریاں پوری کرے اور آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔شاہ سلمان نے کہا کہ روس یوکرین بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یمن میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی بحران کے خاتمے اور سیاسی حل کی طرف لے کر جائے گی۔عراق کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ سلمان نے کہا کہ عراق کی سلامتی اور استحکام خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک ضروری ستون ہے۔
سعودی فرماں روا نے کہا لبنانی حکومت کو چاہیے کہ اپنی سرزمین پر امن اور سلامتی برقرار رکھے۔شام کے معاملے پر کنگ سلمان نے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر اس انداز میں عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس سے شام کی خودمختاری، استحکام اور عرب تشخص کا تحفظ ہو جائے۔ مملکت اپنی اس خدمت کو بھرپور طریقے سے انجام دینے کی راہ پر گامزن ہے۔
کورونا وبا کے بعد گزشتہ سال حج کے سیزن کے دوران مملکت کے اندر اور باہر سے 10 لاکھ عازمین کو حج کرایا گیا۔اب مملکت میں 2030 تک 30 ملین عمرہ زائرین کی میزبانی کرنے کی صلاحیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے کام اور روضۃ المدینہ کا منصوبہ مسجد نبوی کے مشرق کے علاقے میں شروع کیا گیا۔ اس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ مسجد الحرام میں تیسری سعودی توسیع کو مکمل کرنا ہے۔ اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق دو مقدس مساجد میں زائرین کے لیے آرام اور سہولت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔



