بچوں کیلئے موبائل فون خطرناک✍️حفصہ فاروق بنگلور
موبائل کی لت کس طرح چھڑائیں؟ کہتے ہیں تبدیلی خود سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس کیلئے مائیں خود اسمارٹ فون سے دور رہیں اور بچوں کے ساتھ وقت بتائیں
ترقی کے اس دور میں موبائل فون انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے، یا اگریوں کہیں کہ موبائل فون ہماری زندگی کی نہایت بنیادی ضرورت میں شامل ہوگیا ہے توغلط نہیں ہوگا۔ آج کوئی ایک پل کے لئے بھی اسے خود سے جدانہیں کرناچاہتا۔اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ آج بڑوں کی دیکھا دیکھی چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن کیا مائیں جانتی ہیں کہ لاڈ و پیار کی وجہ سے آپ نے جس گجیٹ gadget کو بچوں کی زندگی میں شامل کیا ہے آگے چل کر وہ آپ کے بچے کی جسمانی اور ذہنی صحت کو کتنے بھیانک طریقے سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس مضمون میں بچوں کی موبائل فون کی لت کی وجوہات، اس کے خطرناک اثرات اور اسے چھڑانے کے طریقے تحریر کئے گئے ہیں۔
موبائل فون کی لت کی وجوہات
اکثر بچوں کو موبائل فون کی لت ماؤں کی وجہ سے لگتی ہے۔ اکثر بچوں کو لاڈ و پیار میں موبائل کی لت لگ جاتی ہے یا اکثر بچے روتے ہیں تو مائیں بچوں کو موبائل فون تھماکر چپ کرا دیتی ہیں۔ کبھی مائیں کھانا کھلاتے وقت بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون تھمادیتی ہیں تو وہ نہایت شرافت سے کھانا کھا لیتے ہیں۔ کبھی مائیں بچوں کو اپنے آپ سے دور رکھنے اور کسی خاص کام کوکرنے کے لئے موبائل دے دیتی ہیں جس کی وجہ سے بچے موبائل لینے کے عادی ہوجاتے ہیں۔
موبائل فون کی لت کے نقصانات
اکثر ہم کام کرنے میں مصروف ہوتے ہیںاورہمیں ایسامحسوس ہوتاہے کہ ہمارافون بجا، جب ہم اسے اٹھاکردیکھتے ہیں تو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوتی۔ اس حالت کو ’فون پیرانیہ‘ کہتے ہیں اور تقریباً اٹھانوے فیصد ہمارے بچے اس طرح کی حالت سے دوچار ہیں۔ بچوں کی اس طرح کی حالت کو صحتمند نہیں کہہ سکتے، ایسے بچے ہمیشہ بے چین نظرآتے ہیں۔
آنکھوں کے مسائل
تحقیق بتاتی ہے آپ کابچہ جتنا زیادہ وقت موبائل فون کے سامنے گزارتاہے، اتنا زیادہ اس کی آنکھوں پردباؤ پڑتاہے، اوراس کی وجہ سے اسے سردرد کے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ موبائل فون یاکسی بھی چیز کا ہماری آنکھوں سے تقریباً ۱۶ انچ دورہوناہماری آنکھوں کے لئے فائدہ مند ہوتاہے۔ لیکن اکثر بچے اسے بہت زیادہ قریب سے اور بہت دیر تک دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کم عمری میں ہی چشمہ لگاناپڑتاہے اوروہ مختلف مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔
نیند کے مسائل
تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ۶۰فیصد والدین اپنے بچوں کی ٹیکنالوجی کے استعمال میں نگرانی نہیں کرپاتے اور ۷۵ فیصد بچے اپنے بیڈروم میں موبائل استعمال کرتے ہیں۔ موبائل کی تابکاراور بلیولائٹ کی وجہ سے آنکھوں اور دماغ پر دباؤ بڑھتاہے اور نیند کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ایسے بچے جو نیند پوری نہیں کرپاتے انھیں پڑھائی کے ساتھ دیگرمسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔
موٹاپا
تحقیق کے مطابق جن بچوں کو موبائل فون ان کے کمرے میں استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے ان میں موٹاپا بڑھنے کا تیس فیصد خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وقت کا ضیاع
اکثربچے جب موبائل ہاتھ میں لیتے ہیں تو انھیں وقت کا اندازہ نہیں رہتا ہے اور وہ مسلسل موبائل پرمصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے وقت کاضیاع ہوتاہے بلکہ وہ کوئی دوسراکام بھی نہیں کرپاتے۔
موبائل کی لت کس طرح چھڑائیں؟
کہتے ہیں تبدیلی خود سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس کیلئے مائیں خود اسمارٹ فون سے دور رہیں اور بچوں کے ساتھ وقت بتائیں۔ ان کی پڑھائی میں مدد کریں۔ ان کے ساتھ کھیلیں۔ انہیں وقت دیں تو بچے خودبخود فون سے دورہوجائیں گے۔ ہر بچے میں کوئی نہ کوئی صلاحیت ہوتی ہے، ان صلاحیتوں کو پہچان کر اس کے مطابق اپنے بچوں کو ٹریننگ دیں۔ بچوں کی جسمانی ورزش کیلئے ان کا باہر کھیلنا بہت ضروری ہے انہیں اس کیلئے تیار کریں۔ اس سے نہ صرف ان کی جسمانی بلکہ ذہنی ترقی بھی ہوگی۔ بچوں کو بہت زیادہ آرام فراہم کرنے کے ساتھ انہیں گھرکے کاموں میں بھی مصروف رکھیں تاکہ موبائل فون کیلئے انہیں زیادہ وقت میسر نہ ہو۔
اگربچہ پڑھائی کے لئے موبائل فون استعمال کررہاہے تو پڑھائی کے بعد موبائل فون کو اپنی نگرانی میں لے لیں۔ اگر مائیں اپنے بچوں کو موبائل استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہیں تو اس کا وقت مقرر کریں اور اپنی نگرانی میں ہی انہیں موبائل فون استعمال کرنے دیں۔ بچوں کے لئے موبائل فون کااستعمال بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس لئے ماؤں کو چاہئے کہ اپنے بچے کو موبائل فون سے دور رکھیں۔



