بین الاقوامی خبریںسرورق

’داعشی دلہن‘ کے متعلق اُس کے قیدی شوہر کے چونکا دینے والے انکشاف

نہوں نے کہا کہ داعش نے جان بوجھ کر کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے بھرتی کیا کیونکہ انہیں بچے پیدا کرنے کی ضرورت تھی

‘ISIS bride Shamima Begum

لندن، 3 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شمیمہ بیگم جسے داعش کی دلہن کہا جاتا ہے،خبروں میں رہنے کے بعد اب ان کے شوہر بھی سامنے آیا ہے۔ داعشی دلہن کے شوہر’داعشی دلہا‘ کا کہنا ہے کہ اس کی شادی خوش آئند تھی اور اس نے شام میں ان کے درمیان خاندانی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ساتھ کھانا اور مٹھائیاں تیار کرنے میں ایک طویل وقت گذارا۔’ڈیلی میل‘ کی طرف سے شائع کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق داعشی دلہے کا کہنا ہے کہ اس کا موقف شمیمہ بیگم کے برطانوی شہریت کے حصول کی کوشش سے مختلف ہے۔خیال رہے کہ داعشی دلہن کا شوہر’ریڈیک‘ اس وقت شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسزکی قید میں ہے ۔

مشرقی لندن میں بیتھنل گرین اکیڈمی میں فرسٹ کلاس کی طالبہ شمیمہ بیگم نے فروری 2015 میں دو سہیلیوں کے ساتھ برطانیہ چھوڑا۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ شام میں ماری گئی ہیں۔وہاں ایک ڈچ جنگجو ’یاگو ریڈیک‘ نے اسلام قبول کیا اور داعش میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت اس کی عمر 23 سال کی تھی۔ وہ داعش کے ساتھ لڑتے ہوئے زخمی ہوا۔ تب وہ پندرہ سالہ شمیمہ بیگم کے ساتھ شادی کرچکا تھا۔

شمیمہ بیگم نے چار سال شام میں گذارے۔ اس دوران اس کے شوہر ریڈیک سے اس کے تین بچے پیدا ہوئے۔ان میں سے دو بیماری یا غذائی قلت کی وجہ سے مر گئے اور تیسرا جو مغربی حمایت یافتہ افواج کے قبضے کے بعد پیدا ہوا نمونیا کی وجہ سے فوت ہوگیا۔ شمیمہ بیگم کے وکلاء نے گذشتہ ہفتے ان کی شہریت سے محرومی کے خلاف ایک اپیل میں کہا تھا کہ اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ اس گروپ نے شمیمہ کا جنسی استحصال اور اپنے کسی مرد سے شادی کے مقصد سے اس کی اسمگلنگ کی تھی۔

وکیل نک اسکوائرز نے اپنی موکلہ کی برطانوی شہریت بحال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں کہا کہ یہ گروپ 14 سال تک کی لڑکیوں کو بھرتی کرنے اور جنگ کے لیے تیار کرنے کے ایک معروف انداز پر عمل کر رہا تھا تاکہ انہیں بالغ مردوں کے سامنے بیوی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ داعش نے جان بوجھ کر کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے بھرتی کیا کیونکہ انہیں بچے پیدا کرنے کی ضرورت تھی جو اس کے ریاستی تعمیراتی منصوبے کی ایک اہم خصوصیت تھی۔تاہم شمالی شام میں حراست سے ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے ریڈیک نے عمر کے فرق کے بارے میں پوچھے جانے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر میں شادی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا اور میرا ایک دوست میرے پاس آیا اور کہا کہ ایک بہن ہے جو پارٹنر کی تلاش میں ہے۔

کیا آپ دلچسپی رکھتے ہیں؟ اس نے کہا کہ ‘میں اپنے دوست کو پرپوز کرنے پر راضی ہو گیا ہوں۔ ’داعشی جنگجو‘ نے بیان کیا کہ وہ شمیمہ بیگم کے ساتھ کیسے بیٹھا ،ہم نے بات کی اور شادی کی شرائط پر اتفاق کیا۔ اس نے کہا کہ حالات واقعی کوئی بڑی یا کوئی اہم چیز نہیں تھی۔ یہ چھوٹی چیزیں تھیں جیسے باہر خریداری کرنا یا اس طرح کا کوئی اور کام کرنا ۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ریڈجک نے کہا کہ شمیمہ نے کچھ آزادی مانگی جو میں نے اسے دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ شاپنگ پر جانا۔ اپنی سہیلیوں سے ملنا، بہت بنیادی چیزیں تھیں۔ ہم نے جہیز پر اتفاق کیا۔

اس نے مجھ سے جہیزمیں قرآن کا انگریزی ترجمہ مانگا جس پر میں نے اتفاق کیا۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق شمیمہ بیگم کے داعشی شوہر نے کہا کہ میں نے پہلے کبھی شادی نہیں کی تھی، یہ ایک تجربہ تھا۔ پہلی بار کسی کے ساتھ رہنا، شروع سے کسی کو جاننا، پھر سے یہ ایک تجربہ تھا۔یہ پوچھنے پر کہ کیا وہ خوش ہیں؟ ریڈیک نے انٹرویو لینے والے ڈائریکٹر ایلن ڈنکن کو بتایا کہ میں اس وقت خوش تھا۔ بیگم نے اپنے خاندان سے رابطہ رکھا لیکن مجھے یاد نہیں کہ وہ انہیں اکثر فون کرتے تھے۔ میں زیادہ بار فون کرتا تھا۔ ان کی شادی کا مرحلہ مختصر تھا کہ ہم صرف 10 دن اکٹھے رہے اور 10 دن کے بعد مجھے گرفتار کرلیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button