بین الاقوامی خبریں

ایران:برطانیہ کیلئے جاسوسی کے جرم میں سابق نائب وزیر دفاع کو سزائے موت کا حکم

وزارتِ دفاع کے سابق اعلیٰ عہدہ دار کو قصور وار قرار

تہران، 12جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران میں ایک عدالت نے برطانیہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں وزارتِ دفاع کے سابق اعلیٰ عہدہ دار کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنا دی ہے۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق سابق صدرمحمد خاتمی (1997-2005) کے دورمیں نائب وزیر دفاع کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے علی رضا اکبری Alireza Akbari کو زمین پربدعنوانی اور (برطانیہ کو) معلومات کی ترسیل کے ذریعے ایران کی داخلی اور بیرونی سلامتی کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔برطانوی شہریت رکھنے والے اکبری نے سزا کے خلاف اپیل کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے اس اپیل کو مستردکر دیا تھا۔اس سے پتاچلتا ہے کہ مستقبل قریب میں انھیں پھانسی ہوسکتی ہے۔

ایران کی سراغ رسانی کی وزارت نے ایک بیان میں اکبری کو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے سب سے اہم ایجنٹوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایران کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کی تھیں۔ارنا نے اکبری کوحراست میں لینے کی تاریخ کی وضاحت نہیں کی لیکن بی بی سی نے خبردی ہے کہ انھیں 2019 اور2020 کے درمیان کسی وقت گرفتار کیا گیا تھا۔اکبری کی اہلیہ نے برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگو میں اس بات پرتشویش کا اظہارکیا کہ ان کی سزائے موت قریب آ سکتی ہے، کیونکہ انھیں منگل کی شام کوقید تنہائی میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

یہ کارروائی ایران میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانے کا ایک عام پیش خیمہ ہے۔انھوں نے خبررساں ایجنسی کو یہ بھی بتایا کہ ایک اہلکارنے انھیں خاوند سے آخری ملاقات کے لیے تہران کی جیل میں آنے کے لیے کہا تھا۔اکبری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ علی شمخانی کے قریبی ساتھی تھے ،جو خاتمی انتظامیہ میں وزیر دفاع تھے اوراِس وقت ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری کی حیثیت سے اہم عہدے پر فائز ہیں اوریہ ملک میں فیصلہ سازی کا ایک اعلی ادارہ ہے۔بعض مبصرین کاخیال ہے کہ علی رضا اکبری کے خلاف الزامات سیاسی محرکات پرمبنی ہوسکتے ہیں اور ان کی ممکنہ طور پرحکومت کے اندرشمخانی کے حریفوں کی طرف سے سیاسی طور پرحوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button