بین الاقوامی خبریںسرورق

ساٹھ سیکنڈ کی دہشت جس نے دنیا کو ہلا دیا-محمد مصطفی علی سروری

6؍ فروری 2023ء پیر کے دن کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔

6؍ فروری 2023ء پیر کے دن کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ درجہ حرارت 6 ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔ ترکی میں رات کے آخر پہر کا حصہ تھا جب رات کے چار بج کر پندرہ منٹ ہو رہے تھے۔ ترکی میں نماز فجر کا وقت شروع ہونے میں تقریباً دو گھنٹے کا وقت باقی تھا۔ ترکی میں اوقات نماز کے چارٹ کو دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ فجر کی نماز کا وقت 6 بج کر 6 منٹ تھا۔لیکن 6؍ فروری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی ترکی میں اس صدی کا ایک شدید ترین زلزلہ آگیا۔ چونکہ رات کے سوا چار بج رہے تھے۔

موسم سرد تھا تو لوگوں کی اکثریت اپنے اپنے گھروں میں ہی موجود تھی۔ زلزلے کے وقت جو لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر باہر نکل سکے وہ بچ گئے۔ جبکہ ہزاروں لوگوں کی بدقسمتی تھی کہ وہ زلزلے کے وقت دوڑ کر اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکے۔ جب کہ زلزلے کی شدت کو گھروں کے درو دیوار برداشت نہیں کرسکے تو وہ اپنے ہی مکینوں کی موت کا سبب بن گئے۔ لیکن جن کی موت خدا کو منظور نہیں تھی وہ اس شدید ترین زلزلے کے بعد اور تو اور گرنے والی عمارتوں کے ملبے میں پھنسے رہنے کے باوجود بھی زندہ رہے اور دنیا بھر سے آنے والے امدادی کارکنوں نے ایسے کئی افراد کو محفوظ باہر نکال لیا ہے۔

Olga Borzenkova کا تعلق بیلا روس سے ہے اور اولگا اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ کے لیے کام کرنے والی خاتون ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے ادارہ کی ترجمان بھی ہیں۔ اولگا جس وقت ترکیہ میں زلزلہ آیا اس وقت وہیں موجود تھیں۔ ترکیہ کے علاقے غازینٹپ میں وہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی طرح 6؍ فروری 2023 کو صبح سوا چار بجے گہری نیند میں تھیں۔ اپنے ایک بلاگ میں اولگا نے لکھا کہ جب زلزلہ آیا تو ہر چیز اس قدر شدت سے ہلنے لگی کہ وہ چونک کر نیند سے بیدار ہوگئیں۔ مجھے یہ سب ایک ڈرائونے خواب کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں زلزلہ کی کیفیت ان لوگوں کو صحیح طورپر سمجھا سکوں جنہوں نے کبھی بھی زلزلہ کو محسوس نہیں کیا ہو۔

در و دیوار ہر چیز ہلنے لگی تھی ہم لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو فوراً سیڑھیوں کی طرف دوڑ پڑے اور تین منزلہ عمارت سے نیچے اترنے کے بعد کھلے میدان کی طرف چلے گئے اگرچہ زلزلہ صرف 60 سیکنڈ تک رہا لیکن میری زندگی کا یہ سب سے ڈرائونا وقت تھا۔ باہر نکلنے کے بعد ہم جب تھوڑا سا اپنے حواس بحال کرپائے تو مجھے احساس ہوا کہ باہر تو بارش ہو رہی ہے اور بہت زیادہ سردی ہے۔ ہمارے پائوں ایسے شل ہوگئے تھے جیسے کہ وہ ہمارے جسم کے ساتھ جڑے ہی نہ ہوں۔ ہر کوئی چیخ و پکار کر رہا تھا۔ ہر ایک کو اپنے چاہنے والوں اور رشتہ داروں کی تلاش تھی۔

میں ترکیہ کے جس علاقے میں تھی وہ ان شامی شہریوں کی باز آبادکاری کا بڑا مرکز تھا جو شام میں جنگ سے تباہ حال صورت حال سے محفوظ رہنے کے لیے ترکیہ میں پناہ گزین تھے۔ تقریباً ایک ملین سے زیادہ شامی پناہ گزین ترکیہ کے ان علاقوں میں تھے جو کہ زلزلہ سے بری طرح متاثر ہوا۔

ترکیہ میں زلزلہ تو اگرچہ 6؍ فروری کو آیا تھا ۔ فی الحال جو خبریں سب سے زیادہ عوامی دلچسپی کا باعث بن رہی ہیں وہ کئی دنوں بعد بھی ملبے میں بچ جانے والے افراد کی بحفاظت باہر نکالے جانے کی خبریں ہیں۔

Necla camuz ایک ترکش خاتون ہیں جو ترکیہ کے ہٹایہ صوبے میں رہتی ہیں۔ نیکلا کے ہاں گذشتہ ماہ جنوری کی 27؍ تاریخ کو ہی دوسرے لڑکے کی پیدائش ہوئی تھی۔ نیکلا کی اس زچگی کو بمشکل دس دن ہی ہوئے تھے۔ 6؍ فروری 2023 کو صبح سوا چار بجے نیکلا کا بچہ جب رونے لگا تو وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے بیدار ہوگئی تھی۔ نومولود کا نام یاغز رکھا گیا تھا جس کے معنی بہادر کے ہوتے ہیں۔ غرض جس وقت زلزلے نے اس ماں بیٹے کو آدبوچا تو اس وقت دونوں بیدار تھے۔ زلزلے کی شدت کے سبب اور چونکہ گود میں چھوٹا 10 دن کا بچہ بھی تھا یہ تو ترک خاتون کہیں بھی بھاگ ہی نہیں سکی بلکہ اس کو تو کچھ سجھائی ہی نہیں دیا اور پھر اچانک ہی گھر کے درو دیوار ہلنے لگے تو اس نے بچے کو گود میں لے کر اپنے شوہر کے کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا۔ ادھر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی ادھر سے اس کا شوہر بھی اپنے تین سالہ بیٹے کو لے کر بیوی کے پاس جانے اپنے کمرے سے باہر آیا ۔ عین اسی وقت کپڑوں کی الماری ایسے گری کہ ادھر ماں اور نومولود ادھر باپ اور تین سالہ بیٹا ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی

۔ صرف کپڑوں کی الماری ہی نہیں بلکہ جلد ہی گھر کی دیواریں بھی ایسی گر پڑی کہ سب جہاں تھے وہیں ملبے میں پھنس گئے۔ دھول گرد کا طوفان الگ تھا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نیکلا اور اس کا خاندان ایک نو تعمیر شدہ پانچ منزلہ بلڈنگ کی دوسری منزل پر رہتا تھا۔ زلزلے کی شدت سے پوری عمارت گر کر تباہ ہوگئی اور جب زلزلہ رکا تو نیکلا نے محسوس کیا کہ وہ زمین پر گری ہوئی اور اس کے سینے سے نومولود لڑکا لگا ہوا ہے۔ اور کپڑوں کی جو الماری پہلے گری تھی اس کی آڑ میں وہ محفوظ ہے۔ کیونکہ سر کی چھت گر توگئی تھی مگر اس الماری کی وجہ سے وہ اور اس کا بچہ محفوظ رہے۔ اب وہ اپنے شوہر اور بچے کو پکار رہی تھی لیکن اسے کسی طرح کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔ نیکلا کی آنکھوں کے آگے اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے کو محسوس کر رہی تھی۔

وہ خوش تھی کہ اس کا بچہ زندہ ہے۔ پہلے تو دھول گرد میں سانس لینے میں بھی مشکل آرہی تھی۔ تھوڑا وقت گذر نے کے بعد دھول ہٹی تو سانس لینا تھوڑا آسان ہوگیا۔ وہ اپنے الماری پر ہاتھ مار کر آوازیں کر رہی تھی اور کوشش کر رہی تھی کہ کوئی اس کی آواز سنے۔ پھر اس نے بازو پڑے کچھ کنکر بھی اٹھاکر الماری پر مارے تاکہ آواز پیدا ہو۔ لیکن اس کو کسی طرح کا کوئی جواب نہیں ملا۔ نیکلا نے بی بی سی کی نمائندہ خاتون کو بتلایا کہ جب کسی کا جواب نہیں ملا تو وہ ڈر و خوف میں مبتلا ہوگئی۔ نہ وقت کا پتہ تھا اور نہ کسی چیز کا۔ ہاں میں سینے سے چمٹا بچہ جب بھی روتا تو نیکلا اس کو دودھ پلانے کوشش کرتی۔

نیکلا کی ہمت بار بار جواب دے دیتی مگر وہ اپنے نو مولود بچے کی خاطر خود کو ہمت دلاتی۔ جو زیادہ تر وقت تو سوجاتا اور جب جاگتا تو رونے لگتا۔ 90 گھنٹے گذر گئے۔ نیکلا کو پھر کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ پھر ایک انسانی آوازیں سنائی دینے لگی۔ پھر ایک انسانی آواز گونجی جو امدادی کارکن کی تھی۔ جو کہہ رہا تھا کہ اگر کوئی زندہ ہے تو ایک بار جواب دے۔ نیکلا کا جواب سن کر امدادی کارکنوں نے کھدائی شروع کی اور بالآخر 90 گھنٹوں کی جدو جہد کے بعد نیکلا اور اس کے نومولود کو امدادی کارکنوں نے بحفاظت باہر نکال لیا۔ اور فوری دواخانہ پہنچادیا گیا۔ جہاں پر نیکلا کو اس کے شوہر اور بڑے بچے کے بچ جانے کی اطلاع ملی۔

ایک او ر خبر ایسے بچے کے متعلق بی بی سی نے شائع کی ہے جس کے مطابق پانچ برس کے عرسی کو زلزلے سے تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے پورے 105 گھنٹے کے بعد بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے۔ عرسی جہاں اس حوالے سے خوش قسمتی رہا کہ اس کی اپنی جان تو بچ گئی لیکن اس کی سات سالہ بہن ہیرا نور اور نوسال کا بھائی الف ملبے تلے موت کی نیند سوگئے۔ یہی نہیں عرسی کے والد بھی اس زلزلے میں مارے گئے۔ اب عرسی کی ماں اور وہ دونوں دواخانے میں ہیں۔ جنہیں دواخانے سے نکلنے کے بعد ایک نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنی ہوگی۔

ماروا کی عمر 24 برس اور اس کی چھوٹی بہن ارم 19 سال کی ہے۔ ترکیہ کے انتاکیہ شہر کے جس اپارٹمنٹ میں یہ لوگ رہا کرتے تھے وہ پانچ منزلہ تھا۔ زلزلے کی وجہ سے جب یہ عمارت گر گئی تو دونوں بہنیں ملبے کے نیچے کسی طرح پھنس گئیں۔ حالانکہ ان دونوں بہنوں کو امدادی کارکنوں نے دو دنوں بعد بحفاظت باہر نکال لیا۔ لیکن ان کے باہر نکالے جانے کی کہانی ہی ایسی ہے کہ ہر آنکھ میں آنسو لادے۔ بی بی سی کی فارسی سرویس کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارکنوں کی ٹیم مصطفی کی قیادت میں جب پانچ منزلہ عمارت کے ملبے پر پہنچے تو ان لوگوں نے کتوں اور پھر آلات کی مدد سے ملبے میں پھنسے انسانی جانوں کو تلاش کرنے کا کام شروع کیا۔

طاقتور مائیکرو فون کے ذریعہ سے وہ لوگ ملبے سے آنے والی آوازوں کو سننے کی کوشش کرتے تاکہ پتہ چل سکے۔ ملبے کے نیچے کوئی مدد کے لیے تو آواز نہیں لگا رہا ہے۔

امدادی کارکن مصطفی کو جب ارم اور ماروا کی آوازیں سنائی دینے لگی تو انہوں نے دلاسا دیا کہ ہم لوگ آگئے ہیں اور تم دونوں کو باہر نکال لیں گے۔ مصطفی نے کہہ دیا کہ ارم تم ڈرو نہیں ہم تمھیں بس پانچ منٹ میں باہر نکال لیں گے۔ حالانکہ مصطفی کو معلوم تھا کہ آواز کے ذریعہ ملبے میں دبے شخص کا پتہ چلنے کے بعد پانچ منٹ میں کسی کو باہر نکال لینا ہرگز ممکن نہیں۔ لیکن ملبے میں بچے لوگوں کو مایوسی سے بچانے اور ہمت دلانے کے لیے یہ ضروری تھا کہ انہیں مثبت خبریں دی جائے۔ ان کو ہمت دلائی جائے۔

امدادی کارکنوں نے اندازہ لگایا کہ ملبے کے نیچے لڑکیوں تک پہنچنے کے لیے چھ فیٹ چھ انچ گہرا کھودنا ہوگا اور کھدائی کا یہ کام بڑی مہارت اور بڑے ہی آہستہ انداز میں کرنا ہوگا۔ امدادی کارکن مصطفی کے مطابق ایک غلطی بھی ملبے کو نیچے زندہ لوگوں کے لیے موت کا پروانہ بن سکتی ہے۔ بلڈوزر کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ہاتھ اور معمولی اوزاروں سے کام لینا ہوگا۔ لیکن سلاب کا ایک بڑا تکڑا ایسا تھا کہ اس کو تھوڑا سا اوپر کرنے کے بعد ہی ملبے میں نیچے کھدائی کی جاسکتی تھی۔ اس کام کے لیے بلڈوزر طلب کیا گیا جو ملبہ میں دکھائی دینے والے سلاب کے بڑے ٹکڑے کو تھوڑا سا اوپر کر کے اٹھائے رکھے۔

ادھر ملبے میں دبی بہنوں سے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ مصطفی نے ارم کو بتلایا کہ جلد ہی انہیں بلانکٹ دی جائے گی۔ ارم نے جواب دیا نہیں بلانکٹ کی ضرورت نہیں بس ہمیں باہر نکالا جائے۔ امدادی کارکن چھوٹی ہتھوڑیوں اور چھوٹے اوزاروں کی مدد سے ملبہ کو توڑتے اور ہاتھوں سے اسے اٹھاکر دور پھنکتے جاتے۔

رات کے ساڑھے آٹھ بجے تھے سردی بڑھتی جارہی تھی۔

تھوڑی دیر بعد امدادی کارکنوں نے محسوس کیا کہ ان کے پیروں تلے زمین ہلنے لگی ہے۔ ان لوگوں نے جیسے ہی محسوس کیا کہ یہ دوسرے زلزلے کے جھٹکے ہیں تو سارے امدادی کارکن بچائو کے کام کو روک کر فوری محفوظ مقام پر چلے گئے۔ ایک امدادی کارکن نے واضح کیا کہ زلزلے کی صورت میں امدادی کارکنوں کی حفاظت پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے پاس کام روکنے کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ نہیں تھا۔

آدھے گھنٹے کے بعد امدادی ٹیم دوبارہ اس ملبے کے پاس پہنچتی ہے۔ اب مصطفی دوبارہ چلاکر ارم کو کہتا ہے کہ اب ہم جلد ہی تم لوگوں کو محفوظ باہر نکال لیں گے۔ ورنہ ارم اور ماروا تو امدادی کام رکنے سے یہ سمجھنے لگی تھیں کہ انہیں نکالنے میں ناکامی سے مایوس ہوکر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس لیے مصطفی یہ یقین دلا رہا تھا کہ ہم لوگ تمہیں مصیبت میں نہیں چھوڑیں گے۔

آدھی رات کو بچائو کام دوبارہ شروع ہوا۔ ایک سوراخ کے ذریعہ دونوں بہنوں تک کیمرہ پہنچایا گیا تاکہ ان کی حالت اور جگہ کا پتہ لگایا جاسکے۔ پھر ایک سوراخ بنایا گیا جس میں سے ارم خود باہر نکل سکتی تھی۔ مگر اچانک ماروا نے چیخ کر بتلایا کہ اس کے پر کوئی سخت چیز ہے۔ اس وجہ سے وہ اپنے پائوں نہیںہلا پارہی ہے۔ صبح کے پانچ بجے ملبے میں اتنا بڑا سوراخ بنالیا گیا کہ امدادی ٹیم کا ایک فرد اندر جاسکے۔ امدادی کارکن نے جب ملبے کے نیچے پھنسی ارم کے پاس پہنچ کر بات کی تو پتہ چلا کہ ارم کے بازو میں ہی ایک خاتون کی نعش ہے جو ملبے میں دب کر فوت ہوگئی جو کوئی اور نہیں ارم اور ماروا کی ماں ہے اور ماں کی نعش سے اٹھنے والی بو بیٹی کو پریشان کر رہی تھی۔ امدادی کارکن ملبے میں پھنسی بہنوں سے مل کر باہر نکلتے ہیں اور تقریباً صبح 6:30 بجے پہلے ارم کو اور پھر تھوڑی دیر بعد ماروا کو بھی زندہ باہر نکال لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد امدادی ٹیم کے لیڈر مصطفی اپنے مائک پر دوبارہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر ملبے میں کوئی ہے تو آواز لگائے یا آواز کرے۔ جب کسی کا کوئی جواب نہیں ملتا تو مصطفی کی ٹیم وہاں سے جانے سے پہلے لال رنگ کے اسپرے سے ملبے پر ایک نشان بنادیتی ہے کہ اب ملبے میں کوئی زندہ نہیں ہے۔ تلاشی کا کام ختم ہوا۔

قارئین ترکیہ اور شام کے زلزلے نے ہمارے لیے کئی اسباق چھوڑے ہیں کہ پاک ہے وہ ذات جس کے قبضے میں ہم سب کی جان ہے۔ جس کو چاہتا ہے حالات، ماحول اور ہر چیز موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے ہاں بلا لیتا ہے اور بغیر ظاہری حالات، اسباب اور ماحول کے جس کو چاہتا ہے زندہ محفوظ دو ایک دن نہیں بلکہ پانچ دن تک محفوظ رکھ کر ان کے باہر نکلنے کا سامان کردیتا ہے۔

ترکیہ اور شام کے زلزلے نے ہمیں یہ سبق بھی دیا ہے کہ زلزلے اور آفات و بلیات کبھی بھی آسکتے ہیں اور موت کا فرشتہ کسی بھی وقت لپک سکتا ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم تیاری کرلیں۔ قبل از وقت تاکہ ہمیشہ ہمیشہ والی زندگی میں رسوائی سے محفوظ رہ سکیں۔

mustafa-ali-sarwari
کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button