بین الاقوامی خبریںسرورق

ایران، سعودی عرب کا سفارت خانے دوبارہ کھولنے اور پروازوں کی بحالی پر اتفاق

سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کی بیجنگ میں ملاقات

ریاض،6اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی وژن نے اطلاع دی ہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے چین میں متعین سفیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔جمعرات کی علی الصبح ’ٹوئٹر‘ پر ایک مختصر ویڈیو کلپ میں دونوں وزرا نے ایک ساتھ بیٹھنے سے پہلے مصافحہ کیا۔یہ ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ارنا‘ نے ویڈیو کلپس نشر کیے ہیں جن میں دونوں وزرا کو کیمروں کے سامنے ہاتھ ملاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری سعودی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے ایک وسیع ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے وفود بھی شامل تھے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعاون اور معاہدوں کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا۔ذرائع نے حال ہی میں بتاہا تھا کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان جمعرات کو بیجنگ میں ملاقات کریں گے۔ اخبار’الشرق الاوسط‘ کے مطابق اس ملاقات میں گذشتہ ماہ اعلان کردہ تعلقات کی بحالی کے لیے معاہدے کے مواد کو فعال کرنے اور سفیروں تبادلے کے طریقہ کار پر بات کی جائے گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کے لیے چین کا انتخاب ایک معاہدے تک پہنچنے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے میں سہولت فراہم کرنے میں بیجنگ کے مثبت کردار کی توسیع کا حصہ ہے۔ذرائع کے مطابق بیجنگ میٹنگ سے قبل دونوں وزراء کے درمیان 3 بار رابطے ہوئے، جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اگلے اقدامات، مشنز کو دوبارہ کھولنے کا طریقہ کار اور سابقہ معاہدوں کو فعال کرنے پر گفتگو کی گئی۔

سعودی عرب اور ایران نے چینی سرپرستی میں اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک اور چین نے 10مارچ کو ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ معاہدے پر 60 دن کے اندر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔سہ فریقی بیان میں ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تمام مشترکہ معاہدوں کو فعال کرنے کی بھی توثیق کی جن میں سکیورٹی تعاون کے معاہدے، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سائنس، ثقافت، کھیل اور نوجوانوں کے شعبے میں تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button