بین الاقوامی خبریںسرورق

سعودی عرب: پراکسی بھرتی کرنے والوں کو 100,000ریال جرمانہ اور 6 ماہ قید

انفرادی آجر جو کارکنوں کو دوسری کمپنیوں میں ملازمت کرنے کی اجازت دیتے ہیں

ریاض،7اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے دوسروں کے لیے غیر ملکی پراکسی کارکنوں کی بھرتی پر جرمانے کے اطلاق کی یاد دہانی کی ہے۔حکام نے اپنے ایک ٹویٹ میں وضاحت کی کہ ایسے افراد کا آجر جو اپنے کارکنوں کو دوسروں کے لیے یا ان کے کسی خاص اکاؤنٹ کے لیے کام کرنے کے قابل بناتا ہے ( انفرادی آجر جو کارکنوں کو دوسری کمپنیوں میں ملازمت کرنے کی اجازت دیتے ہیں) اسے 100,000 ریال تک جرمانے اور 6 ماہ تک کی قید کی سزا دی جائے گی۔پاسپورٹ حکام نے تصدیق کی کہ مذکورہ جرمانے کے علاوہ پانچ سال تک کی مدت کے لیے بھرتی پر پابندی عائد کی جائے گی۔

یہ اقدام سعودی عرب میں ملازمتوں اور کام کرنے کے مواقع میں شفافیت کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔گذشتہ چند برسوں میں سعودی حکام نے لاکھوں کی تعداد میں رہائش، کام اور سرحدی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہٹا دیا اور بہت سے غیر ملکی ملازمین کو مملکت سے باہر بھیج دیا ہے۔سعودی عرب کی پبلک سیکیورٹی نے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ مکہ مکرمہ کے ساتھ ساتھ ریاض کے علاقوں میں 911 نمبر پر کال کرکے اور دیگر تمام علاقوں میں 999 ڈائل کرکے رہائشی، مزدوری یا سرحدی حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں حکام کو مطلع کریں۔

المسجد الحرام کی رمضان ڈیجیٹل نمائش میں زائرین کیلئے قیمتی مواد پیش

ریاض ،7اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)صدارت عامہ برائے امور مسجد حرام و مسجد نبوی نے اس سال 1444 ہجری کے رمضان المبارک کے دوران المسجد الحرام میں نمازیوں اور عمرہ کرنے والوں کے لیے خصوصی ڈیجیٹل رمضانی نمائش کا انعقاد کیا ہے۔ اس نمائش میں بیش قیمت 222 ڈیجیٹل نوعیت کی اشیا پیش کی گئی ہیں۔ نمائش میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، ایک انٹرایکٹو ٹیبلیٹ سکرین اور ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔نمائشوں اور عجائب گھروں کے امور کی ایجنسی میں ڈیجیٹل نمائشوں کے جنرل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ریان بن محمد المسعودی نے بتایا کہ نمائش میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کے ساتھ دو مقدس مساجد کے میوزیم کے مجموعوں کا مجموعہ معتمرین اور زائرین کے لیے نمائش میں رکھا گیا ہے۔ ریان نے بتایا کہ ڈیجیٹل نمائشوں کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے فراہم کردہ یہ ممتاز خدمات دو مقدس مساجد اور ان کے زائرین کے لیے ایک خدمت ہیں۔ یہ اقدام سعودی عرب کی دانش مند قیادت کی خصوصی توجہ کے مرہون منت کیا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا درست استعمال دنیا کو بڑے نقصانات سے بچا سکتا: بن سلمان

Saudi crown prince Mohammed bin Salman
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز

ریاض،7اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی عرب ڈیجیٹل گورننس کو بڑھانے، کاروبار میں سہولت فراہم کرنے، معیار زندگی کو بلند کرنے اور مملکت میں مصنوعی ذہانت کی مصنوعات اور سروسز پر سعودی شہریوں کا اعتماد بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ سعودی عرب مستقبل میں ملک میں مصنوعی ذہانت کے مثبت اثرات لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ صورت حال واضح طور پر ولی عہدہ شہزادہ محمد بن سلمان کی مستقبل کے حوالے سے دور اندیشی کی عکاسی کر رہی ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے علمی معیشتں کی تعمیر اور ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو آگے بڑھانے کے لیے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی قدر کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم ماڈل بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ویژن ہے کہ سعودی عرب مصنوعی ذہانت، تکنیکی ترقی اور سائنسی تحقیق سمیت جدید ٹیکنالوجی سے متعلق ہر چیز میں دیگر ملکوں سے آگے رہے۔

سعودی عرب اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا اور سائنسی تحقیق، اختراعات اور ممتاز ایجادات کے شعبوں میں اپنی مصنوعات تیار کر رہا ہے۔سعودی عرب نے اپنے ’’وژن 2030 ‘‘ کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہترین مراکز کا آغاز کیا، عالمی تبدیلی اور ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد اقدامات کئے ہیں۔اس حوالے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ہم سائنسی ایجادات، بے مثال ٹیکنالوجیز اور ترقی کے لامحدود امکانات کے دور میں رہ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز جیسی ان نئی ٹیکنالوجیز کو اگر بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے تو دنیا کو بہت سے نقصانات سے بچایا جا سکتا اور دنیا کو بہت سے بڑے فائدوں کے حصول کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

ایک رائے شماری کے بعد سعودی شہریوں میں مصنوعی ذہانت کی مصنوعات اور خدمات سے نمٹنے میں سعودی شہریوں کے اعتماد کی بلند شرح کا انکشاف کیا گیا۔ اس رائے شماری کے مطابق سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سماجی بیداری میں دنیا میں دوسرے نمبر پر تھا۔یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انڈیکس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے حوالے سماجی بیداری میں دنیا میں دوسرے نمبر پر آیا ہے۔ انڈیکس رپورٹ کے چھٹے ایڈیشن کو سٹینفورڈ یونیورسٹی امریکہ نے رواں ماہ جاری کیا ہے۔اس ٹیکنالوجی میں دانشمند قیادت کی دلچسپی 2019 میں سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی "SADAIA” کے قیام سے بھی ظاہر ہو چکی ہے۔

سعودی ’تاریخی مساجد بحالی منصوبہ‘ کے تحت مسجد الدوید کی بھی تجدید

ریاض،7اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی عرب میں تاریخی مساجد کی ترقی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ایک شمالی سرحدی علاقے میں مسجد ’ الدوید‘ کی بھی تجدید کردی گئی۔ منصوبہ کے دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کی 30 تاریخی مساجد کو تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش کے بعد بحال کیا جا رہا ہے۔شمالی سرحدی علاقے میں واقع ’الدوید‘ مسجد بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ الدوید گاؤں میں واقع ہے۔ یہ وہ گاؤں ہے جو لگ بھگ 60 برس قبل نجد اور عراق کے تاجروں کی ملاقات کا مقام بنا تھا۔ اس میں گھڑیوں کا بازار تھا جس کے آثار اب بھی اس گاؤں میں موجود ہیں۔ یہ گاؤں جو رفحا گورنری سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبے کے تحت ’الدوید‘ مسجد کی نجدی طرز کے مطابق تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔

تزئین کے بعد اس مسجد میں نمازیوں کی تعداد 54 ہو گی۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس مسجد میں نمازیں معطل رہی ہیں۔60 برس قبل تعمیر ہونے والی ’الدوید‘ مسجد کا فن تعمیر نجدی طرز کی خصوصیت رکھتا ہے۔ اس طرز تعمیر میں مٹی کی تعمیر کی تکنیک اور قدرتی مواد کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ طرز مقامی ماحول، ریگستانی آب و ہوا اور گرمی سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔ مسجد کی تجدید میں بھی گرمی سے نمٹنے اور مقامی ماحول سے مطابقت پیدا کرنے والی تکینکس کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ مسجد کو سردیوں میں گرمی کی سب سے زیادہ مقدار کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کی قریبی چھت کی وجہ سے بھی منفرد مقام حاصل ہے۔اس منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں سے 30 مساجد کو بحال کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل منصوبے کا پہلا مرحلہ پایہ تکمیل تو پہنچ چکا ہے۔ اس پہلے مرحلہ میں 10 خطوں کی 30 مساجد کو تعمیر نو کرکے بحال کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button