کیا ایلون مسک کی تیار کردہ کمپیوٹر چپ انسانی دماغ پڑھ سکتی ہے؟
ایلون مسک دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ دماغ کی گہرائیوں سے معلومات اور یادوں کو ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے
نیویارک،8پریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایلون مسک دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ دماغ کی گہرائیوں سے معلومات اور یادوں کو ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے۔ امریکی ارب پتی کی خواہش ہے کہ ان کی تیار کردہ نئی ٹیکنالوجی لوگوں کو ’’سپر وژن‘‘ فراہم کرے۔ایلون مسک نے سن 2020 میں اپنی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نیورالنک کے تیار کردہ دماغی امپلانٹس کے ممکنہ استعمال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل عجیب ہونے والا ہے۔ پچھلے سات سالوں سے یہ کمپنی ایک کمپیوٹر چپ تیار کر رہی ہے، جسے دماغ میں لگانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں یہ ہزاروں نیوران کی سرگرمی پر نظر رکھتی ہے۔
ایلون مسک دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ اس کی کی گہرائیوں سے معلومات اور یادوں کو ڈاؤن لوڈ کیا جاسکیایلون مسک دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ اس کی کی گہرائیوں سے معلومات اور یادوں کو ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے۔ چپ، جسے باضابطہ طور پر ایک برین کمپیوٹر انٹرفیس(بی سی آئی) سمجھا جاتا ہے، ایک چھوٹی سی پروب پر مشتمل ہے جس میں تین ہزار سے زیادہ الیکٹروڈ ہیں، جو انسانی بالوں سے بھی پتلے اور لچکدار تاروں سے منسلک ہوتے ہیں۔ایلون مسک دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ دماغ کی گہرائیوں سے معلومات اور یادوں کو ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے، جیسا کہ انیس سو ننانوے میں تیار کی گئی سائنس فکشن فلم دی میٹرکس میں دکھایا گیا ہے۔
مسک نے نابینا پن اور فالج جیسے امراض کے علاج کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ انسانی ٹیلی پیتھی کے حصول کے لیے نیورالنک کو استعمال کرنے کے عزائم کا اظہار کیا ہے، جو ان کے بقول مصنوعی ذہانت کے خلاف جنگ میں انسانیت کو غالب آنے میں مدد دیگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی لوگوں کو سپر وژن فراہم کرے۔ہم لوگوں کے ذہنوں کو نہیں پڑھ سکتے۔ امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے نیورل انجینئر جیاکومو ویلے Giacomo Valle نے کہا کہ ہم دماغ سے جو معلومات ڈی کوڈ کر سکتے ہیں وہ بہت محدود ہے۔



