بین الاقوامی خبریںسرورق

جرمنی:اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی جنس کے متعلق قانونی بل زیر غور

قانونی طور پر کسی شخص کو اپنی جنس کا تعین کرنے کی آسانی ہو جائے گی

برلن،۱۱؍مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جرمنی میں کسی بھی فرد کو اپنی مرضی کے مطابق جنس اختیار کرنے کا حق دینے کے لیے ایک قانونی بل پر غور کیا جا رہا ہے۔جرمنی میں جنس سے متعلق موجودہ قانون کے تحت تبدیلی جنس کے لیے دو ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ صرف عدالتی فیصلے کے بعد ہی جنس تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم اب اس دہائیوں پرانے قانون کو تبدیل کر کے فرد کو اپنی جنس کے تعین کے اختیار کا قانون بنایا جا رہا ہے۔

جرمن حکومت کی جانب سے جنس سے متعلق ‘حق خود ارادیت‘ کا ایک قانونی مسودہ پیش کیا گیا۔ اگر اسے منظور کر لیا جاتا ہے تو قانونی طور پر کسی شخص کو اپنی جنس کا تعین کرنے کی آسانی ہو جائے گی۔اس مجوزہ قانون کے ذریعے جرمنی میں دہائیوں پرانے اس قانون کا خاتمہ ہو جائے گا، جس میں جرمن شہریوں کو قانونی طور پر جنس کی تبدیلی کے لیے دو ماہرین کے معائنے اور عدالتی فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

نئے قانون کے تحت بالغ افراد کو کسی بھی کاغذی کارروائی میں پڑنے کی بجائے رجسٹریشن دفتر میں جا کر اپنی جنس تبدیل کرانے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔جرمن وزیر برائے خاندانی امور لیزا پاؤس کے مطابق، ”ہم خود ارادیت ایکٹ کے ذریعے ایک اور پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹرانس جینڈرز، انٹرسیکس اور نان بائنری افراد کے ساتھ امتیازی رویوں کے خاتمے کی جانب بڑھا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ اس طرح ہم ان افراد کو وہ احترام کسی حد تک لوٹا سکتے ہیں، جس سے یہ افراد کئی دہائیوں سے محروم رکھے گئے ہیں۔ جرمنی کی اتحادی حکومت نے دسمبر 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد ٹرانس سیکچوئل قانون کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔

جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تنظیمLSVD نے کہا ہے کہ وہ اس مسودے کا تفصیلی جائزہ لے گی تاہم اس تنظیم نے اس مسودے کی اشاعت کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس تنظیم کے ایگزیکٹیو بورڈ کی رکن مارا گیری نے کہاکہ متاثرہ افراد اور ان سے جڑے گروپ ایک طویل عرصے سے پیش رفت کے منتظر تھے، جو جون دو ہزار بائیس میں پیش کردہ اہم نکات کے بعد سے کئی بار التوا کا شکار رہی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button