امریکہ: جون ٹینتھ ہے کیا اور اِس دِن جشن کیوں منایا جاتا ہے؟
صدر بائیڈن نے یہ بات امریکہ کی نئی وفاقی تعطیل’جون ٹینتھ‘ منانے کے لیے رواں ہفتے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں ایک بڑے میوزک کنسرٹ کی میزبانی کے موقعے پرکہی۔
نیویارک، 19جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی خوشی منانے سے متعلق وفاقی تعطیل جون ٹینتھ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ امریکی زندگی میں ایک نئی روح پھونک دے گی۔صدر بائیڈن نے یہ بات امریکہ کی نئی وفاقی تعطیل’جون ٹینتھ‘ منانے کے لیے رواں ہفتے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں ایک بڑے میوزک کنسرٹ کی میزبانی کے موقعے پرکہی۔صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ میرے لیے جون ٹینتھ صرف ایک علامت نہیں ہے۔بلکہ یہ امریکہ کے لیے غلامی کے گناہ کے آغاز کو تسلیم کرنے کی اور یہ جاننے کے لیے کہ اس پر کبھی جنگ نہیں لڑی گئی حقیقت پر مبنی ایک بیانیہ تھا۔اس کا تعلق صرف یونین سے نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی طور پر تعلق امریکہ اور آزادی سے تھا۔امریکہ کی نائب صدر کاملا ہیرس نے اس موقعے پر کہا کہ جون ٹینتھ سیاہ فام افراد کی ثقافت اور برادری کو تکریم دینے کا موقع ہے۔رواں برس وائٹ ہاوس میں جون ٹینتھ کی تقریب کو سیاہ فام افراد کی موسیقی کے مہینے کے جشن کے طور بھی منایا گیا۔
اس میں ٹونی ایوارڈ یافتہ آڈرا میکڈونلڈ اور ٹاک شو کی میزبان جینیفر ہڈسن جیسے فنکار شامل تھے۔اس موقعے پر جون ٹینتھ کی تعطیل منظور کرانے والوں میں سر گرم رکن اوپل بھی مدعو تھیں جنہیں جون ٹینتھ مدر کہا جاتا ہے۔جون ٹینتھ Juneteenth کا لفظ جون اور 19 کا مجموعہ ہے۔19 جون کو منائی جانے والی یہ سرکاری چھٹی امریکی کیلینڈر میں صدر بائیڈن کے موجودہ دورِ اقتدار میں باقاعدہ شامل ہوئی۔اسے غلامی کے خاتمے کادن ’جون ٹینتھ انڈیپینڈینس ڈے‘، فریڈم ڈ ے، سیکنڈ انڈیپینڈینس ڈے یا افریقی امریکیوں کا چار جولائی بھی کہا جاتا ہے۔اگرچہ امریکہ نے برطانیہ سے آزادی 1776 میں حاصل کی تھی لیکن یہاں کے غلام بنائے گئے تمام لوگوں کو اپنے آقاؤں سے آزادی کے لیے لگ بھگ ایک صدی مزید انتظار کرنا پڑا۔
امریکہ کے سابق صدر ابراہم لنکن نے غلاموں کی آزادی کے اعلان پر 1863 میں دستخط کیے تھے لیکن امریکہ کے جنوب کے بہت سے مقامات میں اس پر عمل درآمد 1865 میں ملک کی خانہ جنگی کے اختتام پر ہوا۔ٹیکساس وہ ریاست تھی جہاں کے سیاہ فام غلاموں کو سب سے آخر میں یہ معلوم ہوا کہ انہیں اپنے آقاؤں سے آزادی مل چکی ہے۔یہ 19 جون 1865 کی بات ہے جب امریکہ کے میجر جنرل گورڈن گرینجر اور ان کے فوجی ٹیکساس کے شہر گیلویسٹن پہنچے اور انہیں یہ حکم نامہ پہنچایا کہ ٹیکساس کے لوگوں کو مطلع کیاجاتا ہے کہ تمام غلام آزاد ہیں۔اس میں سابق آقاؤں اور غلاموں کے درمیان ذاتی حقوق اور املاک کے حقوق قطعی طور پر مساوی ہیں۔
ان کے درمیان تعلق اب آجر اور اجرت کے مزدور کا ہو گیا ہے۔نیشنل جون ٹینتھ آبزورینس فاؤنڈیشن کی نیشنل ڈائریکٹر آف کمیونی کیشنز ڈی ایوانز نے 2019 میں کہا تھا کہ 1776 میں امریکہ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی لیکن اس ملک کے تمام لوگ آزاد نہیں ہوئے تھے۔ 19 جون 1865 وہ دن تھا جب در حقیقت امریکہ کے تمام لوگ اور پورا ملک آزاد ہوا تھا۔اگلے برس گیلویسٹن ٹیکساس میں آزاد ی حاصل کرنے والے غلاموں نے 19 جون کو ایک تہوار کے طور پر منانا شروع کر دیا جس میں کنسرٹس، پریڈز، تقریبات اورغلامی کے خاتمے کا اعلان پڑھنا شامل ہوتا ہے۔



