جنسی ہراسانی کی شکایت، خواب چھین لیے گئے لیکن وہ رکی نہیں!
مالی کی ٹیم سے وابستہ ایک ٹین ایج لڑکی باسکٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی پر مقدمہ
لندن، 28جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مالی کی ٹیم سے وابستہ ایک ٹین ایج لڑکی باسکٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی پر مقدمہ کر رہی ہے ،کیوں کہ سابق اہلکاروں کی جانب سے جنسی ہراسانی کے بارے میں رپورٹ کرنے پر یہ عالمی باڈی اسے انتقامی کارروائی سے بچانے میں ناکام رہی۔متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ایک طرف مجھے خود پر فخر ہے مگر دوسری جانب مجھے افسوس بھی ہے کیونکہ اب مجھے باہر کھیلنے اور تعلیم جاری رکھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ سیساکا فوفونا ایک باصلاحیت باسکٹ بال کھلاڑی ہیں۔
اب وہ خود کو ایسی صورتحال میں پاتی ہیں کہ ان کے سابق کوچ کی جانب سے جنسی ہراسانی کی مالیئن باسکٹ بال فیڈریشن سے شکایت کرنے پر ان کے تمام تر خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ فوفونا نے قریب ایک سال قبل باسکٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی ‘فیبا‘ کے خلاف شکایت درج کرائی کہ یہ تنظیم انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے باڈی پر یہ الزام مالی کی ٹیم سے ہٹائے جانے کے بعد لگایا۔
اپنے، جس سابق ہیڈ کوچ کی طرف سے جنسی ہراسانی کا فوفونا نے پردہ فاش کیا تھا، اسے جولائی 2021 میں نابالغ بچوں کے ساتھ نازیبا تعلق قائم کرنے اور جنسی زیادتی کی کوشش کرنے پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔فوفونا کے والد کے مطابق فیبا کا اس بارے میں فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا تاہم ان کی بیٹی مسلسل خوف میں مبتلا ہے اور اسے اپنی زندگی کھو دینے کا ڈر ہے، ”اس سے باسکٹ بال کھیلنے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ سڑک پر ایک مرد نے اس کی توہین کی۔ وہ اس وقت تنہا تھی اور اس نے صرف اس لیے جواب نہ دیا کیونکہ ایسا کرنے والا ایک مرد تھا۔
کوچ کی حراست کے کچھ ایام بعد فوفونا نے ٹیم میں جگہ کھو دینے پر اگست 2021 میں فیبا میں ایمرجنسی اپیل کی۔ البتہ ایک سال گزر گیا پر اس کی اپیل پر کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔ اب ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد اس نے اپنی اپیل کو فیبا کی سیف گارڈنگ کونسل کے سامنے رکھ دیا ہے۔ فوفونا کا موقف ہے کہ باڈی ‘ریگولیشن اٹھانوے‘ پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی، جس کے تحت فیڈریشن کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نیک نیتی سے کی گئی رپورٹنگ کے خلاف جوابی اقدامات نہ کرے۔اس نوجوان لڑکی نے فیبا کی جانب سے غیر جانبدار کمیشن میں بھی شواہد جمع کرائے اور مالی کی پولیس کو بھی۔ اب فرانس میں رہنے والی ایک اور سابق قومی کھلاڑی بھی سامنے آئی ہیں، جنہوں نے بتایا کہ دس سال قبل اس نے بھی اسی طرز کی جنسی ہراسانی کا سامنا کیا تھا۔



