بین الاقوامی خبریںسرورق

کیا آپ نے کبھی بمباری کے خوف میں مذاکرات کیے؟آبنائے ہرمز کو ایران کا اصل ‘ایٹم بم’ قرار دیا- عباس عراقچی

امریکہ ہمیں نہ دھمکی دے سکتا ہے نہ خرید سکتا ہے، عباس عراقچی

تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور حالیہ جنگی صورتحال کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک تفصیلی انٹرویو میں کئی اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی وفد نے امریکہ کے ساتھ ایسے حالات میں مذاکرات کیے جب ہر لمحہ امریکی فضائی حملے کا خدشہ موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے نہ تو دھمکیوں کے آگے سر جھکایا اور نہ ہی کسی لالچ کو قبول کیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر اور ایرانی ڈاکیومنٹری ساز جواد موگوئی کی یوٹیوب سیریز "دی اسٹوری آف وار” کو دیے گئے انٹرویوز میں عباس عراقچی نے جنگ، سفارت کاری، جوہری پروگرام اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیل سے بات کی۔

عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا کیونکہ انہیں ہر وقت اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے گفتگو کے دوران انہوں نے پوچھا:

"کیا آپ نے کبھی ایسے حالات میں مذاکرات کیے ہیں جب ہر لمحہ یہ خوف ہو کہ اجلاس پر بمباری ہو سکتی ہے؟ کیا آپ نے کبھی اپنے اہل خانہ سے بات کرتے ہوئے یہ سوچا کہ شاید یہ آپ کی آخری گفتگو ہو؟”

ان کے مطابق یہی کیفیت ایرانی وفد پر مذاکرات کے پورے عمل کے دوران طاری رہی، لیکن اس کے باوجود ایران نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہا۔

انہوں نے کہا، "ہم نے واضح کر دیا کہ نہ ہمیں دھمکی دے کر جھکایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی لالچ کے ذریعے ہمارے فیصلے تبدیل کرائے جا سکتے ہیں۔”

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ان کے رابطوں کا آغاز گزشتہ سال جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کے دوران ہوا تھا، جو بعد میں بالمشافہ ملاقاتوں، عمانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات اور براہ راست ٹیکسٹ پیغامات تک جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ان رابطوں کو باضابطہ مذاکرات نہیں مانتا۔ پہلی بالواسطہ ملاقات عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوئی، جس کے بعد مسقط، روم اور جنیوا میں مزید ملاقاتیں ہوئیں۔ بعد ازاں عباس عراقچی نے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے بھی کیے، جہاں مختلف سفارتی رابطے جاری رہے۔

عباس عراقچی نے حالیہ جنگ کے آغاز کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی دنوں میں صورتحال انتہائی سنگین تھی۔ حکومت اور فوج کی اعلیٰ قیادت کا آپس میں رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور مواصلاتی نظام بری طرح متاثر تھا۔

انہوں نے کہا، "ہم صرف یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہمارے کون سے ساتھی زندہ ہیں اور کون شہید ہو چکے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے تین دن بعد پہلی مرتبہ صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات ممکن ہوئی، جس کے بعد دیگر سینئر رہنماؤں سے بھی رابطہ بحال ہوا۔”

عباس عراقچی نے امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ نے دنیا کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ ایران کی سب سے بڑی اسٹریٹجک طاقت اس کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ آبنائے ہرمز پر اس کا اثر و رسوخ ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں اس کی عسکری اور تزویراتی حیثیت انتہائی اہم ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی سے قبل ہونے والے مذاکرات کے دوران کئی بین الاقوامی سفیروں نے ایران کو مختلف مراعات کی پیشکش کی تاکہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے۔

انہوں نے کہا، "ایران کی یورینیم افزودگی فروخت کے لیے نہیں ہے۔ اس پروگرام کے لیے ہم نے کئی دہائیوں تک اقتصادی پابندیاں برداشت کیں اور ہمارے ایٹمی سائنسدانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔”

عباس عراقچی نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "ایران وینزویلا نہیں ہے۔ کسی ایک شخصیت کو نشانہ بنا کر ایرانی نظام کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نہ دھمکی قبول کریں گے اور نہ ہی رشوت۔”

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ اور جنگ بندی کے باوجود ایران کی بنیادی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے مطابق دوست اور مخالف دونوں اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ جنگ کے بعد ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے نہ صرف عسکری میدان میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی یہ واضح کر دیا کہ وہ دباؤ، دھمکی یا فوجی کارروائی کے ذریعے اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی افواج نے ایرانی اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی جانب ڈرون اور میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button