بین الاقوامی خبریںسرورق

دس لاکھ حجاجِ کرام کیلئے حج 2022 کی تمام تر تیاریاں مکمل ہو گئیں

ریاض؍مکہ المکرمہ، 7جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دس لاکھ حجاج کرام حج سیزن 2022 کے لیے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ان تیاریوں میں مختلف شعبوں نے حصہ لیا ہے اب جبکہ مناسک حج کی ادائیگی کا آغاز ہونے جا رہا ہے، اس سے پہلے ہی سب شعبوں نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔یہ مملکت سعودیہ کی سعادت ہے کہ اسے حجاج کی خدمت کا موقع میسر ہے۔ گذشتہ روز وزارت حج نے اعلان کر دیا تھا کہ حج سیزن کی تیاریاں الحمد للہ مکمل کر لی گئی ہیں۔دریں اثنا حج سکیورٹی فورس کی کمانڈ نے بھی تمام تر سکیورٹی انتطامات کے لیے اپنی تیاریاں مکمل ہونے کی اطلاع دی ہے۔

تاکہ حج 2022 کو مکمل طور پر مامون اور محفوظ انداز میں ممکن بنا سکے۔شعبہ صحت بھی چار ہسپتالوں اور 26 طبی مراکز کے ذریعے منیٰ میں طبی سہولیات کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر چکا ہے۔ ان طبی ضروریات کے لیے 550 بستروں کا اہتمام کیا گیا ہے اور طبی مقاصد کے لیے ٹرانسپورٹ سروس کے طور پر 100 چھوٹی اور 75 بڑی ایمبولیسز اپنی خدمات دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔جبکہ ایمبولینسز کے لیے 97 مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

جو سعودی ریڈ کریسنٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔ سعودی ہلال احمر اتھارٹی کے پاس چھ ائیر ایمبولینسز سمیت 320 ایمبولینسز کا بیڑہ اس کے علاوہ ہے۔ علاوہ ازیں موٹر سائیکل ایمبولینسز اور چار چھکڑے بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ چار طبی سامان کی ترسیل کے لیے گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں اور1288 افراد پر مبنی میڈیکل سٹاف ہے۔نیشنل واٹر کمپنی نے پانی کی سپلائی اور سٹوریج کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی ہے۔

دو اعشاریہ چار کیوبک ملین کیوبک پانی اس کی طرف سے حجاج کی ضرورتوں کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔اسی طرح سعودی الیکٹرک کمپنی نے مکہ میں اپنی خدمات میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔برقی شعبے نے حج کے سلسلے میں 46 نئے پروجیکٹ مکمل کیے ہیں۔ تاکہ بلا تعطل برقی نظام کام کرتا رہے۔سعودی سکاوٹس نے حجاج کی خدمت ، مدد ، نظم اور تحفظ کے لیے 2200 سکاوٹس کی نفری پیش کی ہے۔ یہ سکاوٹس منیٰ میں حجاج کی خدمت کے لیے تعینات ہیں۔ سکاوٹس حکومت کے متعلقہ اداروں اور شعبوں کوبھی بوقت ضرورت مدد دیں گے۔

مکہ ہیٹ ویو کے اثرات سے حجاجِ کرام کو بچانے کیلئے خصوصی تیاریاں مکمل

سعودی وزارت صحت نے ایام حج کے دوران گرمی میں شدت کی صورت میں حجاج کو لو لگنے اور سن ا سٹروک کے ممکنہ مسائل سے نمٹنے ے لیے 238 بستروں پر مشتمل ہسپتالوں اور طبی مراکز کا اہتمام کیا ہے۔ موسمیات سے متعلق سعودی وزارت یہ خدشہ محسوس کرتی ہے کہ اگلے چند دنوں میں سعودیہ میں درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔اس خدشے کے پیش نظر ہیٹ ویو کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو وزارت صحت نے زیادہ مستحکم کیا ہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں متعدد طبی سہولت کے مراکز قائم کیے ہیں۔

ان مراکز اور ہسپتالوں میں صرف ہیٹ ویو اورہیٹ اسٹروک کے لیے پیشگی تیاری کے طور پر 238 بستروں کا اہتمام کیا ہے۔ ان میں دونوں مقدس شہروں کے ہسپتالوں میں فراہم کردہ 172 بستر بھی اسی غرض سے شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 51 بستر مکہ کے ہسپتال میں ہیں جبکہ 15 بستروں کی سہولت مدینہ میں رکھی گئی ہے۔علاوہ ازیں وزارت نے بڑی تعداد میں ایسے پنکھوں کا اہتمام کیا ہے جو بجلی سے چلتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ پانی کی ٹھنڈی اور ہلکی پھوار کا بھی سبب بنتے ہیں۔ ان نم آلود ٹھنڈی پھواروں کے مسلسل اہتمام کا مقصد بھی یہی ہے کہ حجاج کو ہیٹ اسٹروک اور ہیٹ ویو سے بچا یا جا سکے۔

عازمین حج ترویہ کا دن گزارنے کے لیے منیٰ کی جانب روانہ

دنیا بھر سے فریضہ حج کی ادائی کے لیے آئے لاکھوں فرزندان توحید آج صبح آٹھ ذی الحج 1443ھ کی شبِ منیٰ میں ترویہ کا دن گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی امید رکھتے ہوئے پہنچنا شروع ہو گئے۔ منی میں عازمین حج رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت زندہ کرتے ہوئے بارگاہ خداوندی میں دعائیں اور مناجات کریں گے۔اسلامی شریعت میں احرام باندھے ہوئے اکیلے گروپ کی شکل میکں حجاج کا ترویہ کے دن منیٰ میں آنا اور وہاں عرفات کے مقام پر کھڑے ہونے کے لیے رات بھر جانا مستحب سنت ہے۔نویں ذی الحج کے طلوع آفتاب تک عازمین حج وہاں رہیں گے۔اس کے بعد وہ وقوف عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ پھرعرفات سے نفرہ کے بعد اور مزدلفہ میں کچھ دن گزاریں گے۔

وہاں وے 10-11-12-13 کو قربانی کریں گے اور تین جمرات العقبہ، جمرہ اولیٰ، جمرہ صغریٰ اور جمرہ کبرا کے مناسک ادا کریں گے۔hمنیٰ کا مقام تاریخی اور مذہبی حیثیت کا حامل ہے، جس کی بنا پر خدا کے پیغمبر ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے رمی جمرات کیا ،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ ذبح کیا۔منیٰ مکہ معظمہ اور مزدلفہ کے درمیان واقع ہے۔ منیٰ سے شمال مشرق میں مسجد حرام واقع ہے جو منیٰ سے سات کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ منیٰ حرم کی حدود میں ہے۔ اس کے شمال اور جنوب میں پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ یہاں پر صرف حج کے ایام میں قیام کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button