بین الاقوامی خبریں

ترکیہ میں پھر بم دھماکہ، 8 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی

ترکیہ میں ’موساد‘ سے تعلق کے شبہ میں 44 افراد گرفتار

انقرہ ،16دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) جنوب مشرقی ترکیہ میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملے میں 8 اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس بم حملے کے بعد کردوں کی اکثریت والے علاقے میں بے امنی اور پر تشدد واقعات کی نئی لہر جنم لینے کے خدشات سر اٹھانے گلے ہیں۔مقامی گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا ہے کہ دیار باقر شہر کے قریب ہونے والے حملے میں 8 پولیس اہلکار اور ایک عام شہری زخمی ہوا۔حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمی ہونے والے 9 افراد کو احتیاط کے طور پر فوری ہسپتال منتقل کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ زخمی ہونے والے افراد کی چوٹیں سنگین اور جان لیوا نوعیت کی نہیں تھیں۔

ٹیلی ویژن فوٹیج میں دھماکے سے متاثرہ سفید بس کو ملبے سے بھرے روڈ پر کھڑا دکھایا گیا۔فوٹیج میں بم سے متاثرہ ایک چھوٹی گاڑی کو بھی دکھایا گیا، تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔

دیار باقر اور ماردین شہر کے درمیان موجود سڑک پر ہونے والا یہ دھماکا 5 سال سے زائد عرصے کے دوران حکام کی جانب سے رپورٹ کردہ خطے کا پہلا دھماکا ہے۔یہ دھماکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ ترکیہ کی جانب سے شمالی شام میں کرد فورسز کے خلاف فضائی حملے تیز کردیے گئے ہیں جب کہ وہ عراق میں اپنی محدود زمینی مہم کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔نومبر میں استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں 6 افراد کی ہلاکت کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے شمالی شام میں نئی زمینی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔

گزشتہ اتوار کو انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جو شام میں جاری تنازع کے ایک اہم کردار ہیں، سے کہا کہ وہ سرحدی علاقے سے کرد فورسز کا صفایا کریں۔کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) جسے ترکیہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، نے خطے میں ماضی میں ہونے والے کئی بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کئی دہائیوں سے ترک ریاست کیخلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہی ہے جس میں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترکیہ میں ’موساد‘ سے تعلق کے شبہ میں 44 افراد گرفتار

انقرہ ،16دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترکیہ میں انٹیلی جنس سروسز نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے منسلک 44 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار افراد ترکیہ میں موجود فلسطینی تنظیموں اور شخصیات کا پیچھا کررہے تھے۔ترک میڈیا کے مطابق استنبول پولیس اور ترک انٹیلی جنس سروسز کے مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں 44 شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر ملک میں پناہ لینے والے فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس سروس موساد کو معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ترک حکام نے استنبول میں قائم مشاورتی فرموں کی چھان بین کی اور ’موساد‘ نے مشتبہ افراد کو ترکی میں فلسطینیوں اور فلسطینیوں کی غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی کے لیے ادائیگی کی۔

ہفتے کے آغاز میں مشتبہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔ ان مشتبہ افراد کی طرف سے آن لائن بدنامی اور دھمکیاں دی گئیں فلسطینیوں کے خلاف مہم چلائی گئی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ ایک سال قبل ترک ایم آئی ٹی فاؤنڈیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے موساد کے لیے کام کرنے والوں کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا تھا اور اس نیٹ ورک نے، جس میں تین افراد کے پانچ الگ الگ سیل شامل تھے موساد کو بین الاقوامی طلبا کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ ترکی کی یونیورسٹیاں، خاص طور پر وہ افراد جو مستقبل میں سکیورٹی کی صنعتوں میں کام کر سکتے ہیں، موساد کے مبینہ نشانے پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button