آسارام کو پھر ملی راحت، راجستھان ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت 7 جولائی تک بڑھائی
راجستھان ہائی کورٹ نے طبی وجوہات کی بنیاد پر آسارام کی عبوری ضمانت میں ایک بار پھر توسیع کر دی۔
نئی دہلی 25 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)راجستھان ہائی کورٹ کی جودھ پور بنچ نے نابالغ کے ساتھ جنسی استحصال معاملہ میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کو ایک بار پھر بڑی راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے طبی بنیادوں پر دی گئی ان کی عبوری ضمانت کی مدت میں 7 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ راحت یا تو 7 جولائی تک برقرار رہے گی یا پھر سزا ملتوی کرنے سے متعلق محفوظ فیصلے کے اعلان تک نافذ العمل رہے گی، جو بھی پہلے سامنے آئے۔
یہ معاملہ جودھ پور کے ایک آشرم سے جڑا ہے جہاں سال 2013 میں ایک نابالغ طالبہ نے آسارام پر جنسی استحصال کا الزام عائد کیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد خصوصی پاکسو عدالت نے اپریل 2018 میں آسارام کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ گجرات میں ایک خاتون مرید کے ساتھ عصمت دری معاملہ میں بھی وہ عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔
ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران آسارام کی جانب سے سینئر وکیل دیودت کامت نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دلائل پیش کیے، جبکہ دیگر وکلا عدالت میں موجود رہے۔ دفاعی فریق نے عدالت کو بتایا کہ 86 سالہ آسارام مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کا علاج ابھی جاری ہے، اس لیے مسلسل طبی نگرانی ضروری ہے۔
وکیل صفائی نے عدالت کے سامنے یہ نکتہ بھی رکھا کہ سزا ملتوی کرنے سے متعلق داخل اپیل پر سماعت مکمل ہو چکی ہے اور عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں عبوری ضمانت برقرار رکھنا مناسب اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ آسارام کو پہلے بھی طبی وجوہات کی بنیاد پر وقتی راحت دی جا چکی ہے اور وقتاً فوقتاً اس کی مدت میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس تازہ فیصلے کے بعد اب ان کی عبوری ضمانت 7 جولائی تک جاری رہے گی۔



