میزورم کے ساتھ سرحدی تنازع کولے کرسپریم کورٹ جائے گی آسام حکومت وزیر اعلی ہیمنت نے کہا ریاست کی زمین نہیں لینے دوں گا
گوہاٹی،27جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اب آسام کی حکومت ہمسایہ ریاست میزورم کے ساتھ سرحدی تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ کارخ کرے گی۔ ریاستی وزیر اعلی ہمنت #بسوا سرمہ نے کہا کہ میں کسی کو ایک انچ بھی زمین نہیں دے سکتا، اگر کل #پارلیمنٹ یہ قانون بنادے کہ وادی بارک کو میزورم کو دے دیاجائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جب تک پارلیمنٹ یہ فیصلہ نہیں لیتی میں کسی بھی شخص کو آسام کی سرزمین لینے کی اجازت نہیں دوں گا۔
وزیراعلی ہیمنت بسو سرما نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی آسام کی سرحد میں داخل ہو۔ گذشتہ روز تشدد کے دوران 30 سے 35 منٹ تک مسلسل فائرنگ کی گئی، جس میں ہمارے پانچ جوان ہلاک ہوگئے۔ کل سے چار ہزار کمانڈوز سرحد پر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو برسوں سے چل رہا ہے، ہماری #حکومت اس مسئلے کولے کر سپریم کورٹ میں جائے گی۔
سرما نے مزید کہا کہ یہ سیاسی #جماعتوں کے مابین کوئی تنازعہ نہیں ہے، یہ دو ریاستوں کے مابین مسئلہ ہے، ہمیں کوئی زمین نہیں چاہئے، #آسام امن کیلئے کام کرتا ہے،یہ مسئلہ زمین کا نہیں جنگل کا ہے۔ آسام لوگوں کی بھلائی کے لئے جنگل کو بچانے کے لئے کوشاں ہوں، میزورم سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن ہم اپنی زمین کسی کو نہیں دیں گے۔



