قومی خبریں

اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی پر ایکشن، 38 عمارتیں غیر قانونی قرار، انہدام کا حکم

جانیں پورا معاملہ اور آر ڈی اے کا مؤقف۔

رامپور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق کابینہ وزیر اعظم خان کے اہم تعلیمی منصوبے محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑا قانونی جھٹکا لگا ہے۔ رامپور ترقیاتی اتھارٹی (RDA) نے یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے انہدام کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر ان عمارتوں کو خود منہدم کرے، بصورت دیگر سرکاری مشینری کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ حکم اتر پردیش شہری منصوبہ بندی و ترقی ایکٹ، 1973 کی دفعہ 27(1) کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق فیصلہ تمام متعلقہ ریکارڈ، نوٹس، فریقین کی سماعت اور دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سنایا گیا۔

رامپور کے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے بتایا کہ کارروائی کا آغاز علاقائی جونیئر انجینئر کی رپورٹ کے بعد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کیمپس میں مبینہ غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا گیا، جس کا تحریری جواب 8 جولائی کو موصول ہوا، جبکہ 15 جولائی کو ذاتی سماعت بھی کی گئی۔

رامپور ترقیاتی اتھارٹی کے مطابق محمد علی جوہر یونیورسٹی صدر تحصیل کے سنگن کھیڑا گاؤں میں واقع ہے، جسے 27 ستمبر 2024 سے اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد یونیورسٹی کی عمارتوں کے منظور شدہ نقشوں اور تعمیراتی ریکارڈ کی جانچ کی گئی۔

تحقیقات کے دوران ضلع پنچایت کے ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں صرف دو، یعنی میڈیکل کالج اور اکیڈمک بلاک کے نقشے باقاعدہ منظور شدہ تھے، جبکہ باقی 38 عمارتوں کے لیے کسی بھی مجاز ادارے سے قانونی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ چونکہ یونیورسٹی نے دو عمارتوں کے لیے باقاعدہ اجازت لی تھی، اس لیے اسے قانونی ضوابط کا مکمل علم تھا، اس کے باوجود دیگر تعمیرات بغیر منظوری مکمل کی گئیں۔

سماعت کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ جب یہ عمارتیں تعمیر کی گئیں، اس وقت سنگن کھیڑا گاؤں رامپور ترقیاتی اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا، اس لیے آر ڈی اے سے نقشوں کی منظوری لینا ضروری نہیں تھا۔ انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ عمارتیں موجودہ انتظامی حدود نافذ ہونے سے کئی برس قبل تعمیر ہو چکی تھیں، لہٰذا انہیں موجودہ قوانین کی بنیاد پر غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم رامپور ترقیاتی اتھارٹی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ تعمیر کے وقت جس مجاز ادارے سے نقشوں کی منظوری لینا لازمی تھا، اس کی اجازت حاصل کرنا قانونی تقاضا تھا، چاہے بعد میں علاقے کا انتظامی دائرۂ اختیار تبدیل ہی کیوں نہ ہو گیا ہو۔ اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ غیر منظور شدہ تعمیرات اتر پردیش شہری منصوبہ بندی و ترقی ایکٹ، 1973 کی خلاف ورزی ہیں، اس لیے قانون کے مطابق ان کا انہدام ضروری ہے۔

واضح رہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کا قیام 2006 میں اتر پردیش اسمبلی کے منظور کردہ قانون کے تحت عمل میں آیا تھا اور اسے اعظم خان کے اہم ترین تعلیمی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے یونیورسٹی مبینہ زمین پر قبضے، لیز کی خلاف ورزیوں اور دیگر قانونی تنازعات کے باعث متعدد تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔

رواں سال کے آغاز میں اعظم خان اور ان کے اہل خانہ نے یونیورسٹی چلانے والے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے تمام عہدوں سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ اعظم خان اس ٹرسٹ کے تاحیات صدر اور یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button