بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش: پناہ گزین کیمپ پر حملہ، دو روہنگیا رہنما ہلاک

ڈھاکہ، 17اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پولیس کے مطابق روہنگیاؤں کے ایک گروپ نے بنگلہ دیش میں دو روہنگیا پناہ گزین کیمپوں کے رہنماوں پر حملہ کر دیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ میانمار میں فوجی جنتا سے جنگ کرنے والے ایک باغی گروپ کا ان ہلاکتوں سے تعلق ہو سکتا ہے۔بنگلہ دیش پولیس نے اتوار کے روز بتایا کہ دو روہنگیا رہنما ایک ہجوم کے ہاتھوں ہلاک کر دیے گئے۔ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں سکیورٹی کی مجموعی صورت حال مسلسل زیادہ خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ ان کیمپوں میں تقریباً 10 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں۔پولیس کے ایک ترجمان فاروق احمد نے بتایا کہ یہ دونوں رہنما ہفتے کے روز دیر رات کیمپ نمبر 13 میں مارے گئے۔ انہوں نے ان حملوں کو حالیہ مہینوں کے بدترین حملوں میں سے ایک قرار دیا۔پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک درجن سے زائد روہنگیا شرپسندوں نے 38 سالہ مولوی محمد یونس کو ہلاک کر دیا، جو کیمپ نمبر13 کے مجموعی نگراں تھے۔

شرپسندوں نے ایک اور رہنما 38 سالہ محمد انور کو بھی مار ڈالا۔ مولوی یونس کی موقع پر ہی موت ہوگئی جب کہ انور نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔روزنامہ ڈھاکہ ٹریبیون نے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں کے بعد جائے وقوعہ پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاربڑی تعداد میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ تشدد میں ملوث ہونے کے الزام میں ابھی تک کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے اور نہ ہی کسی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔بنگلہ دیش پولیس کی ایلیٹ یونٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ میانمار میں فوج کے خلاف لڑنے والے ایک باغی گروپ اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے) کے ان حملوں میں ملوث ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے کہاکہ میانمار میں داخلی تصادم سے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کمیپوں میں بھی سکیورٹی کی صورت حال متاثر ہو رہی ہے۔

روہنگیا رہنماوں اور مقتول میں سے ایک کے بھانجے نے بھی اس بات سے اتفاق کیا اور اے آر ایس اے کو اس کے لیے مورد الزام ٹھہرایا۔خیال رہے کہ امریکہ کے وائٹ ہاوس کا دورہ کرنے والے روہنگیا رہنما محب اللہ کو گزشتہ ستمبر میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے قتل کے لیے مذکورہ گروپ کے کئی افراد پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ محب اللہ کے قتل کے بعد اے آر ایس اے کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کے 8000 اراکین گرفتار کیے جاچکے ہیں۔مختلف گروہوں کے درمیان یابا میتھا میفٹامائن نامی ایک نشہ آور دوا کی غیر قانونی تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑائی تیز ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button